تعمیر ملّت
Urdu book, p. 281
By Maulana Wahiduddin Khan
مظلومی (Persecution complex) کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں لیکن اگر وہ معاملہ کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں تو ان مشکل حالات کو وہ اپنے لیے مثبت غذا بنا سکتے ہیں۔ خدا کی دی ہوئی صلاحیت کو استعمال کرکے وہ اپنے نہیں کو ہے میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔ وہ اپنے ناموافق حالات کو اپنے لیے موافق حالات پیدا کرنے کا ذریعہ بنا سکتے ہیں ۔ مسلمانوں کے لیے یقینی طور پر ایسا ہونا ممکن ہے ۔ شرط صرف بلند نظری کی ہے ۔ ایسا بننے کے لیے انہیں مٹی کی ٹوکری کو عزت کے تاج کے روپ میں دیکھنا ہے ۔ دوسروں کے خلاف چیخ پکار کے بجائے اپنے چھپے ہوئے امکانات کو دریافت کرنا ہے ۔ جن حالات کی ذمہ داری وہ دوسروں کے اوپر ڈالنے کے عادی ہوگئے ہیں ان کی ذمہ داری خود اپنے اوپر لینا ہے ۔ جس دن ایسا ہوگا اسی دن اس ملک میں ان کی ایک نئی اور شاندار تر تاریخ کا آغاز ہو جائے گا ۔ صبر کی اہمیت اس دنیا میں ہماری کامیابی یقینی ہے ۔ بشرطیکہ ہم اس حقیقت کو جان لیں کہ اس دنیا میں کامیابی کی منزل ناکامیوں سے گزر کر آتی ہے ۔ یہاں تعمیر کا نقشہ تخریب کے ڈھانچہ میں بنتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں کامیابی کے لیے صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مخالفانہ حالات کو دیکھ کر مایوس نہ ہو ۔ وہ نا خوش گوار تجربات کی بنا پر جھنجھلاہٹ کا شکار نہ ہو ۔ وہ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والے زخموں کو سہہ سکے ۔ یہ جماؤ اور یہ سہارا گویا اس بات کا وقفہ ہے کہ آدمی تھم کر سوچے ۔ وہ وقتی ابال دکھانے کے بجائے دور تک سوچ کر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے ۔ وہ دوسروں کی تردید میں اپنی قوت ضائع نہ کرے بلکہ اپنی ساری طاقت اپنے کو مستحکم بنانے میں لگا دے ۔ صبر اسی چیز کا مذہبی نام ہے جس کو موجودہ زمانہ میں منصوبہ بند عمل یا سوچی سمجھی کارروائی کہتے ہیں ۔ منصوبہ بند عمل یا سوچا سمجھا اقدام وہی شخص کر سکتا ہے جو ناموافق حالات کو دیکھ کر بے برداشت نہ ہوتا ہو ۔ جو اشتعال انگیز حالات میں گھر کر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ فیصلہ لے سکے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader