Urdu book · دین کامل

تعمیر ملّت

Urdu book, p. 282

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ کامیابی صبر کے اُس پار ہے ۔ اور ناکامی یہ ہے کہ آدمی کامیابی کو صبر کے اُس پار تلاش کرنے لگے۔ یہی دنیا کا قانون ہے ۔ ایک کسان کھیتی کرتا ہے ۔ تو وہ کیا کرتا ہے ۔ وہ اپنا دانہ زمین میں دفن کرتا ہے۔ ایک تاجر تجارت شروع کرتا ہے تو وہ کیا کرتا ہے ۔ وہ اپنا سرمایہ دکان میں لگا دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کسان اور تاجر دونوں اپنا اثاثہ کھودیتے ہیں۔ جو ان کے پاس ہے اس کو وہ فنا کر دیتے ہیں کیوں ۔ اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں پانے کے لیے کھونا پڑتا ہے۔ جہاں لینے کے لیے دینا پڑتا ہے۔ اسی بات کو انگریزی زبان میں اس طرح کہا گیا ہے : In giving that we receive. یعنی ہم دیتے ہیں تبھی ہم پاتے ہیں ۔ خدا کی دنیا میں کھیتی اس کا نام ہے کہ بیج کو دفن کرکے فصل کی امید رکھی جائے ۔ یہاں تجارت یہ ہے کہ اپنے سرمایہ کو مٹا کر نفع پانے کا انتظار کیا جائے ۔ اس دنیا میں کانٹوں کے درمیان پھول کی دریافت کرنی پڑتی ہے۔ جو لوگ اس دنیا میں کانٹوں کے بغیر پھول حاصل کرنا چاہیں ان کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ کبھی بھی پھول کو نہ پائیں ۔ وہ ہمیشہ کے لیے بے پھول ہوکر رہ جائیں ۔ مزید نادانی یہ ہے کہ اس معاملے میں اکثر لوگ ایک تضاد کا شکار رہتے ہیں۔ ان کا ذاتی معاملہ ہو تو وہ اس حقیقت کو بہ آسانی جان لیتے ہیں ۔ مگر اسی حقیقت کو وہ اس وقت بھول جاتے ہیں جب کہ وہ ملی معاملات پر گفتگو کر رہے ہوں ۔ اس دنیا میں جو شخص بھی زندگی بناتا ہے وہ اسی اصول پر اپنی زندگی بناتا ہے۔ مگر یہی لوگ جو اپنی ذاتی زندگی میں دے کر پا نا چاہتے ہیں ، ملی زندگی کے معاملہ میں وہ یہ نعرہ لگا رہے ہیں کہ انھیں دیے بغیر ملنا چاہیے ۔ ذاتی تعمیر کے معاملہ میں ہر آدمی حقیقتِ واقعہ سے مطابقت کر رہا ہے اور ملی تعمیر کے معاملے میں حقیقت و واقعہ سے ٹکراؤ ۔ اپنی ذات کے معاملے میں ہر آدمی حقیقت پسند ہے اور ملت کے معاملے میں ہر آدمی جذباتیت پسند ۔ لوگ اپنی ذات کے معاملے میں سنجیدہ ہیں اس لیے جب اپنی ذات کا معاملہ ہو تو فوراً وہ حقیقت کو پالیتے ہیں ۔ مگر ملت کے معاملہ میں لوگ سنجیدہ نہیں اس لیے جب ملت کا موضوع ہو تو وہ حقیقت پسندی کو کھو دیتے ہیں ۔ یہاں وہی لوگ غیر حقیقت پسندانہ باتیں کرنے لگتے ہیں جو اس سے پہلے مکمل طور پر حقیقت پسند بنے ہوئے کہتے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page