Urdu book · دین کامل

ایمانی برکتیں

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۔ ہجرت کے تیسرے سال غزوہ احد پیش آیا۔ اس جنگ میں ابتدا مسلمانوں کو فتح ہوئی تھی، مگر بعد کو ایک غلطی کی وجہ سے فتح شکست میں تبدیل ہوگئی اور مسلمانوں کو زبردست جانی اور مالی نقصان ہوا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے: فانا بکم غمأ بغم لكيلا تحزنوا پھر اللہ نے تم کو رنج پر رنج دیا تا کہ جو کچھ تم سے على ما فاتكم ولا ما اصابكم والله خبير کھویا جائے یا جو مصیبت تم پر پڑے اس پر بما تعملون (آل عمران ۱۵۳) تم غمگین نہ ہو۔ احد کی جنگ میں شکست رسول کی موجودگی میں ہوئی تھی۔ وہ براہ راست اللہ کے علم میں تھی۔ مگر اللہ نے اس کو ہونے دیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے شعور ایمان میں اضافہ ہو۔ ان کے اندر یہ طاقت پیدا ہو کہ وہ کھونے کو برداشت کر سکیں۔ وہ ایک چیز کو کھو کر یہ جانیں کہ دوسری اس سے زیادہ بڑی چیز اب بھی ان کے پاس موجود ہے اور وہ ان کا عقیدہ ہے۔ ایمان کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی دنیا کو کھونے کے بعد بھی خدا کو نہ کھوئے۔ نقصان اس کے لیے اس تجربہ کا ذریعہ بن جائے کہ فانی چیزوں کے درمیان ایک ایسی چیز بھی موجود ہے جو کبھی فنا نہ ہو جو کبھی آدمی سے کھوئی نہ جائے۔ دنیا کے کھونے کو برداشت کرکے اپنے اندر اس قسم کا احساس زندہ کرنا گویا ایک قسم کا ذہنی سفر کرنا ہے۔ یہ اپنے آپ کو مزید آگے کی طرف لے جاتا ہے۔ جو شخص اس غیر فانی سرمایہ کو پالے وہ محرومیوں کی اس دنیا میں کبھی احساس محرومی سے دوچار نہ ہوگا۔ ۳۔ غزوہ بنی المصطلق (۶ھ) کے بعد مدینہ کے کچھ شرپسندوں نے ایک معمولی واقعہ کو شوشہ بنایا اور اس کو غلط رخ دے کر حضرت عائشہ صدیقہ پر نعوذ باللہ جھوٹا الزام لگایا۔ حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ اور حضرت ابو بکر کی صاحبزادی تھیں ۔ قدرتی طور پر حضرت ابوبکر کو اس کا بے حد رنج ہوا۔ کسی باپ کے لیے اس سے زیادہ تکلیف کی بات اور کوئی نہیں کہ اس کی پاکباز لڑکی پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگایا جائے۔ اس جھوٹی مہم میں مدینہ کے ایک سادہ لوح مسلمان بھی شریک ہو گئے جن کا نام مسطح بن اثاثہ تھا۔ یہ حضرت ابوبکر کے ایک قریب رشتہ دار تھے اور حضرت ابوبکر ان کی ماہانہ امداد کیا کرتے تھے ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے شدت احساس کے تحت قسم کھالی کہ اب میں مسطح کی کوئی مدد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page