ایمانی برکتیں
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں کروں گا ۔ اس پر قرآن میں یہ آیت اتری : ولا يأتل أولوا الفضل منكم والسعة أن يؤتوا أولى القربى والمساكين و المهاجرين في سبيل الله ۔ وليعفوا وليصفحوا ۔ الا تحبون أن يغفر الله لكم والله غفور رحيم ۔ ( النور ۲۲ ) تم میں سے جو لوگ فضل اور وسعت والے ہیں وہ اس کی قسم نہ کھالیں کہ وہ اپنے رشتہ دار اور مسکین اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کی مدد نہ کریں گے۔ چاہیے کہ وہ انھیں معاف کردیں اور درگذر کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کردے ۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ حضرت ابو بکر نے یہ آیت سنی تو فورا کہا : خدا کی قسم ہم ضرور چاہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ، تو ہمیں معاف کردے دہ بلی واللہ انا نحب ان تغفر لنا يا ربنا ) اس سے پہلے حضرت ابو بکر ایک ایسے " مسطح " کی مدد کر رہے تھے جس سے انھیں کوئی چوٹ نہیں لگی تھی ۔ اب مسطح کی مدد کرنا ایک ایسے شخص کی مدد کرنا تھا جس سے انھیں سخت چوٹ پہونچی تھی ۔ پہلے اگر وہ نفس سے لڑے بغیر مسطح کی مدد کر رہے تھے تو اب ان کے فیصلہ کا مطلب یہ تھا کہ وہ نفس سے لڑکر مسطح کی مدد کریں گے ۔ اس طرح انھوں نے دیکھا کہ غصہ کو الگ کر کے ایک شخص کے ساتھ سلوک کریں ۔ انھوں نے جانا کہ صرف معمول کے حالات میں مومنانہ اخلاق نہیں برتنا ہے ۔ بلکہ غیر معمولی حالات میں بھی مومنانہ اخلاق برتنا ہے ۔ ان کے اس عمل نے ان کے ایمان کو ایک درجہ اوپر کر دیا ۔ ۴- حضرت عائشہ صدیقہ پر لغوذ باللہ برائی کا جو الزام لگایا گیا ، اس سلسلہ میں مدینہ میں بہت سے واقعات پیش آئے ۔ ان میں سے ایک واقعہ روایات میں اس طرح آیا ہے : عن افلح مولى ابی ایوب قالت له امراته أم ايوب يا ابا ایوب الا تسمع ما يقول الناس في عائشة - قال بلى وذالك الكذب - افكنت يا ام أيوب فاعلة حضرت ابو ایوب انصاری کے غلام افلح کہتے ہیں کہ ان کی بیوی ام ایوب نے ان سے کہا کہ اے ابو ایوب کیا آپ نے نہیں سنا کہ عائشہ کے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ۔ اور وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader