Urdu book · دین کامل

تعمیر ملّت

Urdu book, p. 292

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ کوئی بھی شعبہ فن ایسا نہیں ہے جس میں اردو نے اعلیٰ معیار کی کتابیں تخلیق کی ہوں اور لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہوں کہ اردو کتابیں پڑھے بغیر ان موضوعات پر ان کا مطالعہ مکمل نہ ہوگا۔ فلسفہ، سائنس تاریخ، سماجیات، ٹیکنالوجی، کسی بھی فن پر اردو زبان میں ایسی کتاب میں موجود نہیں جن کو نظر انداز کرنا ممکن نہ ہو۔ ایسے علمی افلاس کی حالت میں اردو کو اس کے وارثین بھی اہمیت نہیں دے سکتے کجا کہ ہم دوسروں سے یہ امید رکھیں کہ وہ اس کو اہمیت دیں گے۔ قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق اس دنیا میں زندگی کا راز نفع بخشی ہے۔ یہاں دینے والا پاتا ہے ۔ یہاں اہلیت کا ثبوت دے کر زندگی ملتی ہے نہ کہ مطالبہ اور چیخ پکار کے ذریعہ ۔ دنیا کا یہ نظام خود اس خدا کا بنایا ہوا ہے جس نے دنیا کو تخلیق کیا ہے۔ جو لوگ خدا کی بنائی ہوئی اس دنیا پر راضی نہ ہوں انہیں اپنی مرضی کے مطابق کوئی دوسری دنیا بنانی چاہیے۔ خدا کی دنیا میں میری مرضی پر چل کر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے نہ کہ اپنی مرضی پر چل کر۔ تاریخ کا سبق مسلمانوں کے پچھلے دور کو سنہرادور (Golden period) کہا جاتا ہے۔ مسلمان اپنے اس دور پر فخر کرتے ہیں۔ ان کے شاعر اور خطیب اس کا پرجوش الفاظ میں تذکرہ کرتے ہیں۔ ان کے مصنف اس پر شاندار کتابیں تصنیف کرتے ہیں۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ شاندار دور وجود میں آیا تو کس طرح وجود میں آیا ۔ یہ طریقہ سراسر جاہلی طریقہ ہے کہ واقعات سے فخر کی غذا لی جائے ۔ واقعات کے مطالعہ کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اس سے سبق کی غذا لی جائے ۔ جب آپ ایک واقعہ کو حقیقت سے لنک ( link ) کریں تو اسی کے نتیجہ کا نام سبق ہے۔ اور جب آپ واقعہ کو حقیقت سے لنک نہ کر سکیں تو وہ واقعہ آپ کے لیے صرف جھوٹا فخر بن کر رہ جائے گا ، وہ آپ کی روح کے لیے تعمیری غذا نہیں بنے گا ۔ آپ اپنی تاریخ کا مطالعہ حقیقت کی روشنی میں کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ سنہرا دور مطالبات کی مہم کے ذریعے وجود میں نہیں آیا۔ حقوق طلبی کی سیاست نے اس کو پیدا نہیں کیا۔ یہ دور نفع بخشی کی صلاحیت کا ثبوت دے کر وجود میں آیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا کامیاب ترین دور وہی تھا جو نفع بخشی کے اعتبار سے کامیاب ترین دور رہتا۔ یہی نفع بخشی کی صلاحیت تھی جس نے مسلمانوں کو دنیا میں عروج کے اعلیٰ مقام پر پہونچا دیا ۔ آج امریکہ اور روس اور انگلینڈ تہذیب جدید کے مراکز سمجھے جاتے ہیں مگر آپ جانتے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page