تعمیر ملّت
Urdu book, p. 293
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ یہ وہ مقامات نہیں ہیں جہاں تہذیبِ جدید کی بنیاد پڑی ہو ۔ یا جہاں سے علم کا احیاء شروع ہوا ہو ۔ علم اور تہذیب کا آغاز جن یورپی علاقوں سے ہوا وہ اسپین اور سسلی اور اٹلی ہیں ۔ یورپ کے انہیں ساحلی علاقوں میں ابتداۂ علم کا احیاء اور تہذیبِ جدید کی بنیاد پڑی۔ یہاں سے پھر وہ دوسرے مغربی ملکوں میں پہنچا ۔ اس کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ میں علم اور تہذیب مسلمانوں کے ذریعہ پہنچے ۔ مسلم عہد سے پہلے یورپ کا براعظم تاریکی کا بر اعظم بنا ہوا تھا ۔ یہ مسلمان تھے جنہوں نے یورپ میں علم کی روشنی پہنچائی ۔ مسلمان ابتداً جب یورپ میں داخل ہوئے تو وہ افریقہ کی طرف سے سمندر پار کر کے وہاں داخل ہوئے ۔ وہ مراکش کے راستے سے سمندر پار کر کے اسپین پہنچے ۔ اسی طرح وہ تیونس کے راستے سے میڈیٹرینین کو پار کر کے سسلی اور اٹلی میں داخل ہوئے ۔ مسلمانوں نے ان یورپی علاقوں میں علم اور تہذیب کی بنیاد رکھی اور پھر یہ علم اور تہذیب پہلے مغربی یورپ میں اور بعد کو امریکہ تک پہنچے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان ہی وہ گروہ تھے جو مغرب میں علم اور تہذیب داخل کرنے کا سبب بنے ۔ گویا جس زمانہ میں مسلمانوں کو عروج ہوا اس زمانہ میں ان کی نفع بخشی اتنی زیادہ بڑھی ہوئی تھی کہ وہ جس زمین پر اپنا قدم رکھتے تھے وہاں علم اور تہذیب کا چشمہ پھوٹ پڑتا تھا ۔ وہاں کی تاریک تاریخ روشن تاریخ میں تبدیل ہو جاتی تھی ۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کا کہیں جانا ایسا ہی تھا جیسے پانی کا کسی خشک زمین میں جانا ۔ لندن کے برٹش میوزیم میں ایک سونے کا سکہ رکھا ہوا ہے ۔ یہ سکہ ے ۷۷ ء میں ڈھالا گیا تھا ۔ اس سکہ پر او فمارکس (Offa Rex) کا نام کندہ ہے ۔ یہ قدیم انگلینڈ کا ایک بادشاہ تھا جس کا زمانہ حکومت (۹۶ ۷ - ۷۹۵ ء) ہے۔ اس سکہ کے ایک طرف عیسیٰ بادشاہ کا نام کندہ ہے اور دوسری طرف کلمہ شہادت (لا الہ الا اللہ) عربی خط میں لکھا ہوا ہے ۔ پروفیسر فلپ ہٹی نے اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس (۱۹۷۹) میں صفحہ ۳۱۶ پر اس سکہ کی تصویر چھاپی ہے ۔ سکہ کے نیچے مصنف نے یہ الفاظ لکھے ہیں کہ یہ اینگلو سیکسن دور کا سونے کا سکہ جس میں ۷۷۴ء کے عرب دینار کی نقل کی گئی ہے : Anglo-Saxon gold coin imitating an Arab dinar of the year 774.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader