اسلام اور سائنس
Urdu book, p. 298
By Maulana Wahiduddin Khan
گمان کیا گیا تھا کہ وہ تمام دھاتوں کو سونے میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس زمانہ کے فلکیات داں محض نجومی ہوتے تھے ۔ اور کیمسٹری کے علماء صرف کیمیا گری کرتے تھے ۔ اس لیے یہ تعجب خیز بات ہے کہ ان سب کے باوجود مسلم عہد کے اعتبار نے طب کی ترقی میں قیمتی اضافے کیے۔ اسلام سائنس کا خالق یہ باتیں وہ ہیں جن کا عام طور پر مورخین نے اعتراف کیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے بھی آگے ہے۔ جدید سائنس خود اسلام کی پیدا کردہ ہے۔ اسلام بلاشبہ سائنس کے لیے نہیں آیا۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سائنسی انقلاب خود اسلامی انقلاب کی ضمنی پیدا وار ہے۔ اسلام اور سائنس کے اس تعلق کو بر یفالٹ نے ان الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ ہماری سائنس پر عربوں کا قرضہ صرف یہ نہیں ہے کہ انہوں نے حیران کن نظریات دیے۔ سائنس اس سے زیادہ عربوں کی مقروض ہے۔ یہ خود اپنے وجود کے لیے ان کی احسان مند ہے : The debt of our science to that of the Arabs does not consist in startling discoveries of revolutionary theories; science owes a great deal more to Arab culture, it owes its existence. The ancient world was, as we saw, pre-scientific. The Astronomy and Mathematics of the Greeks were a foreign importation never thoroughly acclimatized in Greek culture. The Greeks systematized, generalized, and theorized, but the patient ways of investigation, the accumulation of positive knowledge, the minute method of science, detailed and prolonged observation and experimental inquiry were altogether alien to the Greek temperament. Only in Hellenistic Alexandria was any approach to scientific work conducted in the ancient classical world. What we call science arose in Europe as a result of a new spirit of inquiry, of new methods of investigation, of the method of experi- ment, observation, measurement, of the development of Mathematics in a form unknown to the Greeks. That spirit and those methods were intro- duced into the European world by the Arabs. Briffault, Making of Humanity, p. 190 یہ ایک علمی اور تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام سائنس کا خالق ہے۔ سائنس سادہ طور پر مطالعہ فطرت (Study of nature) کا نام ہے۔ انسان جب سے زمین پر آباد ہے اسی وقت سے فطرت اس کے سامنے موجود ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ فطرت کے مطالعہ اور تسخیر میں انسان کو اتنی زیادہ دیر لگی۔ سائنس کی تمام ترقیاں پچھلے ہزار برس کے اندر ظہور میں آئی ہیں۔ جب کہ اصولاً انھیں لاکھوں سال پہلے ظاہر ہو جانا چاہیے تھا۔ اس کی وجہ قدیم زمانہ میں شرک کا غلبہ ہے۔ شرک اس میں مانع تھا کہ آدمی فطرت کا مطالعہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader