Urdu book · دین کامل

اسلام اور سائنس

Urdu book, p. 299

By Maulana Wahiduddin Khan

کرے اور اس کی قوتوں کو دریافت کر کے انھیں اپنے کام میں لائے ۔ شرک کیا ہے۔ شرک نام ہے فطرت کو پوجنے کا۔ قدیم زمانہ میں یہی شرک تمام اقوام کا مذہب تھا : غرض زمین سے آسمان تک جو چیز بھی انسان کو نمایاں نظر آئی اس کو اس نے اپنا خدا فرض کر لیا اسی کا نام شرک ہے اور یہ شرک اسلام سے پہلے تمام معلوم زمانوں میں دنیا کا غالب فکر رہا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدیم انسان کے لیے فطرت پرستش کا موضوع (Object of worship) بنی ہوئی تھی ۔ پھر عین اسی وقت وہ تحقیق کا موضوع (Object of investigation) کیسے بنتی ۔ یہی اصل وجہ ہے جس کی بنا پر قدیم انسان اس طرف راغب نہ ہو سکا کہ وہ فطرت کا مطالعہ کرے ۔ تمام قدیم زمانوں میں انسان فطرت کو خدا سمجھ کر اس کے سامنے جھکتا رہا ہے ۔ فطرت کو مقدس نظر سے دیکھنا انسان کے لیے اس میں روک بنا رہا کہ وہ فطرت کی تحقیق کرے اور اس کو اپنے تمدن کی تعمیر کے لیے استعمال کرے ۔ آرنلڈ ٹائن بی نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ فطرت پرستی (شرک) کے اس دور کو سب سے پہلے جس نے ختم کیا وہ توحید (Monotheism) ہے ۔ توحید کے عقیدے نے پہلی بار انسان کو یہ ذہن دیا کہ فطرت خالق نہیں بلکہ مخلوق ہے ۔ وہ پوجنے کی چیز نہیں بلکہ برتنے کی چیز ہے۔ اس کے آگے جھکنا نہیں ہے بلکہ اس کو تسخیر کرنا ہے تاہم جب اس حقیقت کو دیکھا جائے کہ توحید کے نظریہ کو پہلی بار اسلام نے عملی طور پر رائج کیا تو یہ انقلاب براہ راست اسلام کا کارنامہ قرار پاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کے تمام پیغمبر توحید کا پیغام لے کر آئے۔ ہر دور میں خدا کے جن بندوں نے سچائی کی تبلیغ کی انھوں نے خالص توحید ہی کی تبلیغ کی ۔ مگر اسلام سے پہلے کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ توحید کے نظریہ کو مان لیں اور توحید کی بنیاد پر انسانی معاشرہ میں وسیع انقلاب بر پا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے پہلے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page