Urdu book · دین کامل

اسلام اور سائنس

Urdu book, p. 305

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہ منظر دیکھتے ہیں کہ مسلم کالج اور اسلامی یونیورسٹی تو ہمارے پاس موجود ہیں مگر اس کے اندر مسلم طلبہ موجود نہیں۔ کیوں کہ ان بڑے اداروں کو غذا پہچانے والے چھوٹے ادارے نہیں۔ مسلمانوں نے اپنے بچوں کو مذہبی جذبے کے تحت ہندو اور عیسائی یا گورنمنٹ کے ابتدائی اسکولوں میں بھیجنا پسند نہیں کیا اور خود ان کے اپنے ابتدائی اسکول موجود نہ تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قوم کے بچوں کی ابتدائی تعلیم اس انداز پر نہ ہوسکی کہ وہ آگے بڑھ کر سائنس کے شعبوں میں داخلہ لے سکیں۔ مسلم رہنماؤں کی اس غفلت کی وجہ جو بھی ہو، مگر یہ ایک واقعہ ہے کہ عملی طور پر یہ ایک بڑا سبب ہے جس نے مسلم قوم کو سائنسی تعلیم میں پیچھے کر دیا۔ بنیادی غفلت سائنس کی تعلیم میں مسلمانوں کے پیچھے ہونے کا سبب ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ مسلمان انگریز اور انگریزی میں فرق نہ کر سکے ۔ انھوں نے استعماری قوموں کو اور استعماری قوموں کے ذریعہ آنے والے علوم کو ایک سمجھا۔ اول الذکر سے سیاسی اسباب کے تحت انھیں نفرت پیدا ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ثانی الذکر سے بھی نفرت کرنے لگے۔ اگر وہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر سکتے تو یقینی طور پر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سائنسی تاریخ دوسری ہوتی۔ ہر قوم کے کچھ اپنے قومی علوم ہوتے ہیں۔ ان قومی علوم سے دوسری قوموں کو دل چسپی نہ ہونا ایک فطری بات ہے۔ مزید یہ کہ دوسری قو میں اگر ان قومی علوم سے دل چسپی نہ لیں تو اس سے انھیں کوئی حقیقی نقصان نہیں ہوتا۔ مگر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک قوم ایک علم کو لے کر اٹھتی ہے لیکن حقیقتہً وہ اس کا قومی علم نہیں ہوتا بلکہ اس کی حیثیت ایک آفاقی علم کی ہوتی ہے۔ یہ علم اپنی حقیقت کے اعتبار سے تمام قوموں کے لیے ہوتا ہے نہ کہ کسی ایک قوم کے لیے۔ وہ انسانیت کا مشترک سرمایہ ہوتا ہے نہ کہ کسی قوم کا انفرادی ورثہ ۔ قدیم صليبی جنگوں کے بعد یہی صورت حال مغربی قوموں کے ساتھ پیش آئی تھی۔ اُس وقت مسلمان سائنسی علوم کے حامل تھے۔ اور اسی بنا پر وہ مغربی قوموں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے اس وقت مغرب کی حیثیت مفتوح کی تھی اور مسلمانوں کی حیثیت فاتح کی۔ اگرچہ عام طور پر ایسا ہوتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page