اسلام اور سائنس
Urdu book, p. 306
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ مفتوح کے دل میں فاتح کے لیے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ فاتح کی ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ مگر مغربی قوموں نے یہ نادانی نہیں کی۔ انھوں نے مسلمانوں اور مسلمانوں کے علوم کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا۔ انھوں نے مسلمانوں سے نفرت کی مگر مسلمانوں کے علوم کو انھوں نے آگے بڑھ کر لیا۔ نیز اپنی کوششوں سے اس میں اتنے اضافے کیے کہ بعد کی صدیوں میں وہ ان علوم کے امام بن گئے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا کہ وہ دوبارہ تاریخ کو اپنے حق میں بدلنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہی صورت موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آئی۔ مغربی قومیں ان کے لیے فاتح کی حیثیت رکھتی تھیں اس لیے مغربی قوموں سے بیزاری ان کے لیے ایک فطری بات تھی۔ مگر یہاں مسلمان اس ہوش مندی کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ مغرب اور مغربی علوم کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھیں ۔ مغربی قومیں جن علوم کو لے کر آگے بڑھی تھیں وہ ان کے قومی علوم نہ تھے بلکہ وہ کائنات علوم تھے۔ ان کی حیثیت قوت و طاقت کی تھی۔ دور جدید کے مسلم رہنما اگر اس راز کو بروقت جان لیتے تو وہ مغربی علوم کو مغرب سے الگ کر کے دیکھتے۔ مغربی علوم کو وہ اپنے لیے طاقت سمجھ کر حاصل کرتے ۔ وہ ان کو خود اپنی چیز سمجھتے نہ کہ غیر کی چیز۔ مگر یہاں دور جدید کے مسلم رہنما اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے۔ انھوں نے بیک وقت مغرب سے بھی نفرت کی اور مغربی علوم سے بھی۔ یہی وہ غلطی ہے جس نے دور جدید میں مسلمانوں کو سائنس میں پیچھے کر دیا۔ مسلم رہنماؤں نے ایک لمحہ کی غلطی کی تھی مگر اس کا نتیجہ مسلم قوم کو صدیوں کی شکل میں بھگتنا پڑا ؛ یک لحظه غافل گشتم و صد ساله راهَم دور شد زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت شعور کی ہوتی ہے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ، مسلمانوں نے جب صلیبی جنگوں میں مغربی اقوام پر فتح حاصل کی تو وہ فتح کے جوش میں مبتلا ہو گئے ۔ اس جوش نے انھیں سائنس کی تحقیق سے غافل کر دیا۔ اس کے بعد موجودہ زمانہ میں یہی واقعہ ایک اور شکل میں پیش آیا۔ مسلمان مغربی قوموں کے مقابلہ میں مفتوح ہوئے تو ان کے اندر مغربی اقوام کے خلاف نفرت جاگ اٹھی۔ وہ نفرت کی نفسیات میں مبتلا ہو کر مغربی سائنس کی طرف سے بے رغبت ہو گئے۔ مسلمان اپنی بے شعوری کے نتیجہ میں فاتح کی حیثیت سے بھی نقصان میں رہے اور مفتوح کی حیثیت سے بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader