اسلام اور سائنس
Urdu book, p. 307
By Maulana Wahiduddin Khan
حصہ دوم جدید انسان ایک عجیب مشکل (Dilemma) سے دوچار ہے۔ اس کے پاس تکنالوجی ہے مگر اس کے پاس فلسفہ حیات نہیں۔ اس کے پاس جسمانی سفر کے لیے مشینیں ہے مگر اس کے پاس روحانی سفر کے لیے عقیدہ نہیں۔ یہی جدید انسان کا اصل مسئلہ ہے۔ برٹرینڈ رسل (۱۹۷۰ - ۱۸۷۲) نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم بجلی کے بارہ میں کیا جاننا چاہتے ہیں۔ صرف یہ کہ اس کو ہم کس طرح اپنے لیے کار آمد بنائیں۔ اس سے زیادہ جاننے کی خواہش بے فائدہ ما بعد الطبیعیات میں چھلانگ لگانے کے ہم معنی ہے : What do we want to know about electricity? Only how to make it work for us. To want to know more is to plunge into useless metaphysics. The Impact of Science on Society, p. 93 برٹرینڈ رسل اور اس کے جیسے دوسرے بے شمار لوگوں کی اصل مشکل یہ ہے کہ وہ صرف ” بجلی کیا ہے “ کے سوال کو لینا چاہتے ہیں اور ” بجلی کیوں ہے “ کے سوال کو نظر انداز کر دینا چاہتے ہیں۔ مگر انسانی فطرت اس تفریتی پر راضی نہیں۔ انسان اپنی فطرت کے تحت مجبور ہے کہ وہ بجلی کو عملاً استعمال کرنے کے ساتھ اس کی حقیقت کو بھی جاننا چاہے۔ یہ ایک ایسا لازمی سوال ہے جس سے اپنے آپ کو خالی کرنا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ نظریاتی سوالات کا جواب معلوم کیے بغیر بھی بجلی ہمارے کارخانوں کو چلاتی ہے اور ہمارے شہروں کو روشن کر رہی ہے۔ مگر انسانی فطرت اس سے انکار کرتی ہے کہ وہ یہیں ٹھہر جائے۔ وہ بجلی کو استعمال کرے مگر بجلی کی حقیقت کو جاننا نہ چاہے۔ آدمی عین اپنی فطرت کے سخت مجبور ہے کہ وہ ” بجلی کیا ہے “ کے سوال کے ساتھ ” بجلی کیوں ہے “ کے سوال پر بھی غور کرے ۔ اسی دوسری چیز کا نام عقیدہ ہے اور انسان عقیدہ (Faith) کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ جدید انسان کی اصل کمزوری یہی ہے کہ اس نے عقیدہ کو کھو دیا ہے۔ اب اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ آج صحیح اور سچا عقیدہ صرف اسلام ہے تو یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ آج کے انسان کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ اسلام ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader