اسلام اور سائنس
Urdu book, p. 311
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم ترین زمانہ سے چاند کو پوجتے چلے آرہے ہیں ۔ موجودہ زمانہ میں چاند کی علمی تحقیق کی گئی ۔ دور بینوں سے اس کا مشاہدہ کیا گیا ۔ چاند کی مٹی کو زمین پر لاکر لیبارٹری میں اس کا تجزیہ کیا گیا ۔ حتی کہ ستمبر 1959 میں روس کار اکت چاند پر اترا۔ اس کے بعد جولائی 1969 میں امریکی خلا باز نیل آرم سٹرانگ نے چاند پر اپنے قدم رکھ دیئے۔ اس طرح آخری طور پر معلوم ہو گیا کہ چاند کوئی دیوتا کی چیز نہیں ہے۔ وہ محض ریت اور پتھر کا ایک مجموعہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ وہ دین آج کے انسان کا دین قرار پائے گا جو سورج اور چاند کو دیوتا بتا کر اسے پوجنے کے لیے کہتا ہے یا وہ دین جو انسان سے یہ کہہ رہا ہے کہ سورج اور چاند کی پرستش نہ کرو بلکہ تم اس خدا کی پرستش کرو جس نے انھیں پیدا کیا ہے (لا تسجد والشمس ولا للقمر واسجدوا لله الذی خلقھن ، حم السجدہ ، ۳۷) حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنسی دور میں چاند کی معبودانہ حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ آج کا ایک شخص جو چاند کے بارے میں جدید سائنسی نقطہ نظر پر یقین رکھتا ہو وہ اسی کے ساتھ ان مذاہب پر یقین نہیں رکھ سکتا جو چاند کو دیوتا بتاتے ہیں۔ مگر اسلام کے ساتھ یہ مشکل نہیں۔ کیوں کہ اسلام چاند کو اور اسی طرح دوسرے اجرام سماوی کو مخلوق بتاتا ہے نہ کہ خالق اور معبود۔ مذہبی سادگی اسلام کی ایک خصوصیت اس کی فطری سادگی ہے جو جدید سائنسی ذہن کے عین مطابق ہے۔ جدید انسان کا ذہن نیچر کے مطالعہ سے بنا ہے۔ اس لیے نیچر میں جو سادگی ہے وہی سادگی جدید ذہن کے لیے بھی پسندیدہ چیز بن گئی ہے۔ جدید ذہن کے لیے وہی مذہب قابل قبول ہو سکتا ہے جس میں فطری سادگی ہو۔ جو مذہب فطری سادگی سے خالی ہو وہ جدید ذہن کے لیے قابل قبول بھی نہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے سوا تمام مذاہب فطری سادگی سے محروم ہو چکے ہیں، نظریاتی سادگی سے بھی اور عملی سادگی سے بھی۔ موجودہ مسیحیت جس فلسفیانہ عقیدہ پر قائم ہے وہ تثلیث ہے یعنی تین میں ایک ، ایک میں تین۔ ریاضیاتی طور پر یہ بات بالکل ناقابل فہم ہے کہ کوئی چیز بیک وقت ایک بھی ہو اور اسی کے ساتھ تین بھی۔ اس سلسلہ میں ایک دل چسپ واقعہ قابل ذکر ہے ۔ دہلی یونیورسٹی کے ایک عیسائی پروفیسر سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader