Urdu book · دین کامل

اسلام اور سائنس

Urdu book, p. 314

By Maulana Wahiduddin Khan

اور حضرت موسیٰ کے زمانہ میں جو بادشاہ مصر پر حکومت کر رہا تھا وہ بھی فرعون تھا۔ یہ بات جدید تحقیقات سے غلط ثابت ہوئی ہے۔ جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ حضرت یوسف کے زمانہ میں مصر میں ان لوگوں کی حکومت تھی جن کو چرواہ بادشاہ (Hyksos kings) کہا جاتا ہے یہ لوگ اصلاً مصری نہ تھے بلکہ عرب قبائل سے تعلق رکھتے تھے ۔ وہ باہر سے آکر مصر میں اسی طرح حکمران بن گئے جس طرح انگریز ہندوستان میں ایک عرصہ تک حکمراں رہے۔ چرواہ بادشاہوں کا یہ خاندان دو ہزار سال قبل مسیح سے لے کر پندرہویں صدی قبل مسیح کے آخر تک مصر کے اقتدار پر قابض رہا۔ حضرت یوسف کی وفات کے بعد ایک عرصہ تک یہ خاندان مصر پر حکمران رہا۔ اس کے بعد مصر میں ان کے خلاف بغاوث ہوئی۔ ان کو مصر سے نکال دیا گیا اور ان کی جگہ ایک مصری خاندان کی حکومت قائم ہوئی یہی مصری خاندان ہے جس کے بادشاہوں نے سب سے پہلے فرعون (Pharoah) کا لقب اختیار کیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ بائبل کا بیان جدید تاریخی تحقیقات سے ٹکرار ہا ہے ، بائبل حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ دونوں پیغمبروں کے ہم عصر بادشاہوں کو فرعون کہتی ہے ، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ فرعون صرف حضرت موسیٰ کے ہم عصر بادشاہ کا لقب تھا نہ کہ حضرت یوسف کے ہم عصر بادشاہ کا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بائبل جدید تاریخی معیار کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ایک شخص بائبل کو مانے تو اس کو تاریخ کو رد کرنا پڑے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ تاریخ کی تحقیق کو مانے تو اس کی نظر میں بائبل ناقابل اعتبار قرار پائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید انسان مجبور ہے کہ وہ بائبل کو نہ مانے ، الا یہ کہ وہ اپنے سائنسی ذہن سے دست بردار ہو جائے۔ مگر قرآن کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ قرآن میں حضرت یوسف کے زمانہ کے بادشاہ کا بھی ذکر ہے اور حضرت موسیٰ کے زمانہ کے بادشاہ کا بھی ذکر ۔ مگر قرآن انتہائی بامعنی طور پر دونوں کے درمیان فرق کرتا ہے۔ اس نے حضرت یوسف کے ہم عصر بادشاہ کے لیے عزیز کا لفظ استعمال کیا ہے ، جس کے معنی حکمراں یا ذی اقتدار کے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس قرآن جب حضرت موسیٰ کا ذکر کرتا ہے تو وہاں وہ ان کے ہم عصر بادشاہ کو واضح طور پر فرعون کہتا ہے ۔ گویا قرآن کے نزدیک حضرت یوسف کے زمانہ میں مصر کا بادشاہ دوسرا تھا اور حضرت موسیٰ کے زمانہ میں مصر کا بادشاہ دوسرا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page