Urdu book · دین کامل

اسلام اور سائنس

Urdu book, p. 315

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح قرآن مکمل طور پر یہ اہلیت رکھتا ہے کہ وہ جدید علم کا سامنا کر سکے۔ کیوں کہ جدید علمی تحقیقات اور قرآن کا بیان دونوں کا مل طور پر ایک دوسرے کے موافق ہیں۔ یہاں آدمی کو یہ ضرورت نہیں کہ وہ قرآن کو ماننے کے لیے جدید علم کو چھوڑنے پر مجبور ہو۔ یا جدید علم کو مانا اس کے لیے صرف اس وقت ممکن ہو جب کہ قرآن سے دست بردار ہو جائے ۔ اسلام کی برتری مریم جمیلہ ایک امریکی نومسلمہ ہیں۔ وہ امریکہ کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے مسلم ممالک کا سفر کیا۔ بالآخر ایک پاکستانی مسلمان سے شادی کرلی اور اب وہ پاکستان میں مقیم ہیں۔ ان کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے اسلام مغرب کے مقابلہ میں (Islam Versus The West) اس کتاب میں وہ اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں : یونیورسٹی کی تعلیم کے زمانہ میں میں نے ایک مضمون لیا جو یہودیت اسلام میں، کہا جاتا تھا۔ میرا اپنی پروفیسر اپنے طلبہ کو، جو سب کے سب یہودی ہوتے تھے، اس بات پر مطمئن کرنے کی کوشش کرتا تھا کہ اسلام کا ماخذ یہودیت ہے ہماری نصابی کتاب میں قرآن کی ایک ایک آیت کو لے کر دکھایا گیا تھا کہ کس طرح وہ یہودی ذرائع علم پر مبنی ہے پروفیسر کے لیکچر کے ساتھ ہم کو ایسے فلم اور سلائڈ بھی دکھائے جاتے تھے جن میں صیہونیت اور یہودی ریاست کی تعریف ہوتی۔ اگر چہ پروفیسر کا حقیقی مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ اسلام پر یہودیت کی برتری ثابت کرے مگر میرے اوپر اس کا اثر بالکل الٹا پڑا۔ جیسے جیسے میں نے قدیم عہد نامہ اور قرآن کا گہرا مطالعہ کیا، دونوں کا تضاد مجھ پر نمایاں ہوتا چلا گیا۔ ایک معنی میں قدیم عہد نامہ صرف یہودیوں کی تاریخ تھی جو خدا کے چنے ہوئے لوگ تھے۔ قرآن اگرچہ عربی زبان میں ایک عرب پیغمبر پر اترا ، اس کا پیغام ایک عالمی پیغام ہے جو تمام نسل انسانی کو خطاب کرتا ہے۔ جب میرے پروفیسر نے بتایا کہ فلسطین پر یہودیوں کا خدائی حق ہمیشہ سے یہودی شریعت کا مرکزی جزر رہا ہے تو مجھے خدا کے اس تنگ نظر عقیدہ سے بہت دھکا لگا۔ کیا قرآن یہ نہیں کہتا کہ : پورب پچھم سب خدا کے ہیں ، تم جدھر بھی رخ کرو ادھر خدا تمہارے لیے موجود ہوگا ۔ کیا پیغمبر اسلام نے نہیں کہا کہ تمام زمین خدا کی مسجد ہے۔ صیہونیت کہتی ہے کہ یہودیوں کا وطن صرف فلسطین ہے، دوسری جگہ وہ جلاوطن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرے پروفیسر کا دعویٰ کہ یہودی صرف فلسطین میں رہ کر انسانی تہذیب میں اپنا حصہ ادا کر سکتے ہیں بے بنیاد نظر آتا ہے، جب اس حقیقت کو دیکھا جائے کہ حضرت موسیٰ پر وحی مصر میں آئی، تالمود کے انتہائی اہم حصے اس سرزمین میں لکھے گئے جو آج عراق کہا جاتا ہے (صفحہ ۴)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page