اسلام دورِ جدید میں
Urdu book, p. 319
By Maulana Wahiduddin Khan
انزل من السماء ماء فسالت اوذية بقدرها فاحتمل السيل زبدا رابيا ومما يوقدون عليه في النار ابتغاء حلية او متاع زبد مثله. كذلك يضرب الله الحق و الباطل فاما الزبد فيذهب جفاء واما ما ينفع الناس فيمكث في الارض كذلك يضرب الله الامثال - (الرعد ١٧) اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر نالے اپنی مقدار کے موافق بہہ نکلے ۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھا لیا۔ اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں میں بھی ابھر آتا ہے جن کو لوگ زیور یا اسباب بنانے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ پس جھاگ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کے لیے اللہ تعالی کا قانون کیا ہے ۔ وہ قانون یہ ہے کہ جو گروہ اپنے آپ کو نفع بخش ثابت کرے اس کو دنیا میں بقا اور استحکام ملے ۔ اور جو گروہ اپنی نفع بخشی کھودے وہ یہاں بے قیمت ہو کر رہ جائے ۔ اس عالمی قانون کو ایک طرف کتاب الہی میں لفظی طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ دوسری طرف مادی دنیا میں اس کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ سورہ رعد کی مذکورہ آیت میں اس نوعیت کی دو مثالیں دی گئی ہیں ۔ ایک مثال بارش کی ہے ۔ بارش ہوتی ہے اور اس سے نالے بہتے ہیں تو جھاگ اوپر دکھائی دینے لگتا ہے ۔ مگر جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ جھاگ تو ہوا میں اڑ جاتا ہے اور جو چیز اس میں نفع بخش ہے وہ باقی رہتی ہے ، یعنی پانی ۔ دوسری مثال دھات کی ہے ۔ دھات کو تپانے کے لیے جب کٹھالی میں پگھلاتے ہیں تو اس میں ابتدا ئر اس کا میل کچیل اوپر دکھائی دینے لگتا ہے ۔ مگر بہت جلد یہ وقتی منظر ختم ہو جاتا ہے اور جو اصل قیمتی دھات ہے وہ اپنی جگہ باقی رہ جاتی ہے ۔ دورِ اول کی مثال دورِ قدیم میں اسلام کو غیر معمولی عظمت ملی ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ تقریباً ایک ہزار سال تک اسلام کو آباد دنیا کے قائد کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader