Urdu book · دین کامل

اسلام دورِ جدید میں

Urdu book, p. 320

By Maulana Wahiduddin Khan

کو یہ عظیم حیثیت اتفا قاً نہیں ملی اور نہ مطالبات کے ذریعہ اس کو یہ حیثیت حاصل ہوئی ۔ اس کی وجہ قدرت کا وہی ابدی قانون تھا جس کا اوپر ذکر ہو ا ۔ یعنی نفع بخشی اور فیض رسانی ۔ دنیا کو اسلام سے جو کچھ ملا ، اس کے بہت سے پہلو ہیں ۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اسلام نے دنیا کو توہمات (Superstitions) کے دور سے نکالا اور اس کو پہلی بار سائنس کے دور میں داخل کیا ۔ آج کی دنیا جس چیز کو اپنے لیے سب سے بڑی نعمت سمجھتی ہے وہ سائنس ہے ۔ اور تمام محققین اور منصف مورخین نے تسلیم کیا ہے کہ یہ دراصل اسلام ہے جس نے سائنس کے دور کو پیدا کیا ۔ یہاں ہم صرف ایک مغربی مصنف مسٹر بر یفالٹ کا قول نقل کریں گے ۔ وہ اس موضوع پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگرچہ یورپی ترقی کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں جس میں اسلامی تہذیب کی فعال اثر انگیزی نہ دیکھی ہو ۔ مگر وہ سب سے زیادہ واضح اس قوت کی پیدائش میں ہے جو جدید دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے ۔ یعنی طبیعی سائنس اور سائنسی ایسپرٹ ۔ ہماری سائنس پر عربوں کا قرض انقلاب نظريات کی دریافت کی حد تک نہیں ہے ۔ سائنس اس سے کہیں زیادہ عرب تہذیب کی احسان مند ہے ، وہ خود اپنے وجود کے لیے اس کی مرہون منت ہے : یہ ایک معلوم تاریخی حقیقت ہے کہ قدیم زمانہ میں تمام دنیا میں شرک کا غلبہ تھا ۔ تمام قو میں بے شمار دیوتاؤں کو پوجتی تھیں ۔ ہندوستانی روایات کے مطابق ان کی تعداد ۳۳ کروڑ تک پہنچ گئی تھی انسائیکلو پیڈیا بر ٹانیکا (۱۹۸۲) میں تعدد آلہہ کے عنوان کے تحت بتایا گیا ہے کہ مذاہب میں عمومی طور پر یہ بات پائی گئی ہے کہ فطرت کی طاقتوں اور فطرت کے مظاہر کو خدا مان لیا جاتا ہے ۔ نہایت آسانی کے ساتھ ان کو تین قسموں میں بانٹا جا سکتا ہے ـــــــــ آسمانی ، فضائی اور زمینی ۔ یہی تقسیم بجائے خود ہند آریائی مذہب میں تسلیم کی گئی ہے ۔ چنانچہ سورج ان کے یہاں آسمانی خدا ہے ۔ اندر فضائی خدا ہے جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page