Urdu book · دین کامل

اسلام دورِ جدید میں

Urdu book, p. 322

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ زمین و آسمان کی نشانیوں (مظاہر فطرت) پر غور کرو۔ قرآن میں اس قسم کی سات سو آیتیں شمار کی گئی ہیں جن میں مظاہر فطرت پر غور کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اگر بالواسطہ آیتوں کو بھی شامل کیا جائے تو ان کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ جائے گی۔ یہ معلوم انسانی تاریخ میں بالکل نئی آواز تھی۔ کیوں کہ اس سے پہلے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ وہ مظاہر فطرت کو پوجے۔ ایک ایسی دنیا جس میں ہزاروں برس سے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ مظاہر فطرت پوجنے کی چیز ہیں، وہاں قرآن نے یہ آواز بلند کی کہ مظاہر فطرت اس لیے ہیں کہ ان پر غور کیا جائے اور ان میں چھپی ہوئی حکمتوں کو دریافت کیا جائے۔ اسلام کا یہ پیغام صرف پیغام نہ رہا بلکہ سو سال کے اندر ہی وہ ایک عالمی انقلاب بن گیا۔ اس نے اولاً عرب کے دل و دماغ کو فتح کیا۔ پھر وہ ایشیا اور افریقہ اور یورپ تک پہنچ گیا ۔ اس نے عرب کے بت خانے ختم کر دیئے۔ ایرانی اور رومی شہنشاہیتیں اس زمانہ میں شرک کی سب سے بڑی سرپرست تھیں، دونوں کو اسلام نے مغلوب کر لیا اور توحید کا غلبہ تقریباً پوری آباد دنیا میں قائم کر دیا۔ اسلام کی اس نفع بخشی کو تمام منصف مزاج مورخین نے تسلیم کیا ہے۔ یہاں ہم انسائیکلوپیڈیا برطانیہ کا (۱۴/ ۱۹) کا ایک پیراگراف نقل کرتے ہیں : اسلامی تہذیب کا تعلق یورپی سائنس سے بہت زیادہ ہے۔ عربی زبان بولنے والے علاقوں اور لاطینی یورپ کے درمیان نہایت گہرا ربط قائم تھا۔ پیغمبر کے پیروؤں کی فتوحات ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوئیں۔ اور دسویں صدی تک یہ حال ہو گیا کہ عربی زبان ایران سے لے کر اسپین تک کی تمام قوموں کی علمی زبان بن گئی۔ عرب فاتحین جہاں گیے وہاں عام طور پر وہ امن اور خوش حالی لے گیے۔ قرآن کے ذریعہ عالمی سطح پر جو فکری انقلاب آیا اس نے تاریخ میں پہلی بار نئی قوم کی سرگرمیاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page