اسلام دورِ جدید میں
Urdu book, p. 323
By Maulana Wahiduddin Khan
شروع کر دیں۔ انسان نے اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پایا جو پوچھنے کی چیز نہیں بلکہ برتنے کی چیز تھی، جس کا وہ تابع نہ تھا بلکہ وہ اس کے لیے مسخر کی گئی تھی کہ وہ اس کو اپنا تابع بنائے۔ چنانچہ اسلام کے عظیم الشان اعتقادِ انقلاب کے ساتھ ایک عظیم الشان علمی اور ذہنی انقلاب بھی شروع ہوگیا۔ اسلام کے ماننے والوں نے جب ایک قادرِ مطلق خدا کو پایا تو اسی کے ساتھ انھوں نے دوسری تمام چیزوں کو بھی پایا۔ انھوں نے ہر میدان میں ترقیاں شروع کر دیں۔ ان سے دنیا کو وہ چیزیں ملنے لگیں جو ابھی تک اس کو نہیں مل سکی تھیں۔ چنانچہ اس دور میں پیدا ہونے والی جتنی بھی قابلِ ذکر ترقیاں ہیں ان کا مطالعہ کیجیے تو ہر ترقی کے پیچھے کسی نہ کسی مسلمان کا ہاتھ کام کرتا نظر آئے گا۔ چند تاریخی حوالے توحید اس دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ توحید کو اختیار کرنے کی وجہ سے دورِ اول کے مسلمانوں کے لیے یہ ممکن ہو کہ وہ دنیا والوں کے درمیان ایک ایسی برادری بن کر ابھریں جن کا ہر طرف استقبال کیا جائے اور جن کے ذریعہ سے دنیا والوں کو ہر قسم کا نفع حاصل ہو۔ یہاں ہم اس سلسلہ میں چند مثالیں درج کریں گے۔ 1- اسلامی انقلاب کے بعد کئی سو سال ایسے گزرے ہیں جب مسلمان ساری دنیا میں علمِ طب کے امام تھے۔ دنیا کے بڑے بڑے لوگ مسلم اطبا سے رجوع کرتے تھے اور طب میں مسلمانوں کی تصنیفات ہر جگہ فن طب کا ماخذ بنی ہوئی تھیں۔ یورپ کا سب سے پہلا میڈیکل کالج سلر نو (اٹلی) میں قائم ہوا۔ یہ میڈیکل کالج گیارہویں صدی عیسوی میں قائم ہوا تھا۔ اس کا نصاب بڑی حد تک ان طبی کتابوں پر مشتمل تھا جو عربی زبان سے لاتینی زبان میں ترجمہ کی گئی تھیں۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیہ کا (۱۹۸۴) نے اس کے تذکرہ کے ذیل میں لکھا ہے کہ یورپ میں بارہویں صدی نے عربی سے لاتینی میں کتابوں کے ترجمہ کا ایک ہیرو دانہ پروگرام دیکھا۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ یورپ کا ابتدائی طبی اسکول جوسلرنو میں قائم ہوا اور دوسرا جو مانٹ پیلییر میں قائم ہوا، دونوں عربی اور یہودی ماخذوں سے بہت قریب تھے : The 12th century saw a heroic program of translation of works from Arabic to Latin. It is significant that the earliest medical school in Europe was at Salerno and that it was later rivalled by Montpellier, also close to Arabic and Jewish sources (16/368).

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader