Urdu book · دین کامل

اسلام دورِ جدید میں

Urdu book, p. 328

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمیں کیا کرنا ہے اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے ۔ ماضی میں بلا شبہ مسلمانوں نے بہت بڑی بڑی سائنسی خدمات انجام دی تھیں ۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمان سائنس اور صنعت کے میدان میں تمام قوموں سے پیچھے ہو گئے ہیں ۔ آج وہ اس حیثیت میں نہیں ہیں کہ خالص سائنسی اور صنعتی اعتبار سے اہل دنیا کے لیے نفع بخش بن سکیں ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ابھی تک صنعتی دور (Industrial age) میں بھی داخل نہیں ہوئے ۔ جب کہ بقیہ دنیا، الوین ٹا فلر کے الفاظ میں، مافوق صنعتی دور (Super-industrial age) میں داخل ہو گئی ہے ۔ Alvin Toffler, Future Shock, New York, 1971 مگر امت مسلمہ محفوظ آسمانی کتاب کی حامل ہے ۔ اس نسبت سے وہ خود بھی ایک محفوظ امت ہے۔ اس محفوظیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں مواقع بظاہر ختم ہو جائیں وہاں بھی اس کے لیے ایک نیا موقع موجود رہتا ہے۔ خدائے انسانیت کے لیے عام طور پر اور امت مسلمہ کے لیے خاص طور پر یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ ہر ڈس ایڈوانٹج کے ساتھ اس کے لیے ایک ایڈوانٹج ہمیشہ موجود رہے ۔ یہی وہ ابدی حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : فأن مع العسر يسراً ۔ ان مع العسريراً (الانشراح) پر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت موجودہ زمانہ میں پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے ۔ سائنس اپنی ترقیوں کی انتہا پر پہنچ کر ایک ایسے سنگین مسئلہ سے دوچار ہے جس کا خود اس کے پاس کوئی حل نہیں ۔ نہ سائنسی طبقہ سے باہر کوئی گروہ ایسا موجود ہے جو اس مسئلے کا حل اسے دے سکے ۔ یہ صرف مسلمان ہیں جو محفوظ آسمانی کتاب کے حامل ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں ہیں کہ سائنسی طبقہ کو نیز پوری انسانیت کو اس مسئلے کے حل کا تحفہ پیش کر سکیں ۔ اس معاملہ کی نوعیت سمجھنے کے لیے یہاں میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کا ایک پیرا گراف نقل کروں گا ۔ اس کے تاریخ سائنس (History of Science) کے مقالہ نگار نے اس سلسلہ میں لکھا ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page