Urdu book · دین کامل

اسلام دورِ جدید میں

Urdu book, p. 329

By Maulana Wahiduddin Khan

ابھی حال تک سائنس کی تاریخ کامیابیوں کی کہانی تھی۔ سائنس کی فتوحات میں یہ شمار ہوتا تھا کہ اس نے انسانی معلومات میں اضافہ کیا ہے اور جہالت اور توہم پرستی پر فتح حاصل کی ہے۔ سائنس سے ایجادات کا ایک سیلاب نکلا ہے جس نے انسانی زندگی کو بہتر بنایا ہے۔ مگر حال میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ سائنس گہرے اخلاقی سوالات سے دوچار ہے۔ بے قید ٹکنالوجی کے خطرات کی وجہ سے اس کی ترقی پر روک لگانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ یہ صورت حال مورخین کو چیلنج کر رہی ہے کہ وہ ان خیالات کا دوبارہ تنقیدی جائزہ لیں جو ابتداء میں سادہ طور پر قائم کر لیے گئے تھے۔ جدید دنیا کا یہی وہ خلا ہے جہاں مسلمان اپنے نفع بخش ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں ، اور اس طرح دوبارہ اپنے لیے سرفرازی کا وہ مقام حاصل کر سکتے ہیں جو انھوں نے دنیا میں کھو دیا ہے۔ سائنس کی ابتدائی فتوحات نے بہت سے لوگوں کو اتنا زیادہ متاثر کیا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ہمیں سائنس کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ سائنس ہماری تمام ضرورتوں کے لیے کافی ہے۔ اس سلسلہ میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ جولین ہکسلے (۱۸۸۷-۱۹۷۵) نے اس نقطہ نظر کی نمائندگی کہ یہ سب مادے کی پیداوار ہیں۔ جولین ہکسلے (۱۸۸۷۔۱۹۷۵) نے اس نظریے کی تشریح کرتے ہوئے ایک کتاب شائع کی تھی جس کا نام تھا ـــــ انسان تنہا کھڑا ہوتا ہے : Man Stands Alone اس کے جواب میں کریسی مارلین (۱۸۸۲۔۱۹۴۶) نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام بامعنی طور پر یہ تھا ـــــ انسان تنہا کھڑا نہیں ہوسکتا : Man Does Not Stand Alone بیسویں صدی کے نصف اول تک انسان کا یہ دعویٰ تھا کہ اس کی سائنس اس کے لیے کافی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page