اسلام دورِ جدید میں
Urdu book, p. 335
By Maulana Wahiduddin Khan
انکار کرتے ہیں کہ سائنس کے علاوہ علم کا کوئی اور بلند تر طریقہ ہے جس کے ذریعہ سے ہم ان سچائیوں کو دریافت کر سکیں جو سائنس اور عقل کی دسترس میں نہیں آئیں ۔ آج کے انسان کو یہی بتانا اس کو سب سے بڑی چیز دینا ہے کہ ہاں، یہاں ایک ایسا بلند تر طریقہ موجود ہے جس کے ذریعہ نا معلوم کو معلوم کیا جا سکے ۔ اور وہ الہام خداوندی ہے ۔ اور یہ الہام خداوندی جہاں اپنی محفوظ شکل میں موجود ہے وہ قرآن ہے ۔ قرآن پوری طرح اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے اور تقریباً ڈیڑھ سو ہزار برس سے مسلسل اپنی صداقت کو ثابت کر رہا ہے ، اس موضوع پر راقم الحروف نے اپنی کتاب " عظمتِ قرآن " اور دوسری کتابوں میں گفتگو کی ہے ۔ اس کی تفصیل ان کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ داخلی شہادت اخلاقی یا مذہبی احساس انسان کے اندر بے حد طاقت ور ہے ۔ ماضی سے لے کر حال تک کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ احساس کسی طرح انسان کے اندر سے ختم نہیں ہوتا ۔ مزید یہ کہ یہ خالص انسانی خصوصیت ہے ۔ کسی بھی نوع کے جانور میں اب تک اخلاقی یا مذہبی شعور کا ہونا ثابت نہ کیا جا سکا۔ الفرڈ رسل ویلیس (۱۹۱۳ - ۱۸۲۳) مشہور ارتقا پسند عالم ہے ۔ تاہم وہ ڈارون کی طرح اس کا قائل نہ تھا کہ ذہنِ انسانی کی اعلیٰ اور نادر خصوصیات محض انتخابِ طبعی (Natural Selection) کا نتیجہ ہو سکتی ہیں ۔ اسی طرح اس نے لکھا ہے کہ افادیت کا مفروضہ جو کہ در اصل ذہن پر انتخابِ طبعی کے نظریہ کا انطباق ہے ، وہ انسان کے اندر اخلاقی شعور کی پیدائش کی تشریح کے لیے ناکافی معلوم ہوتا ہے ۔ اخلاقی شعور کو اس دنیا میں بے حد مشکلات کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے ۔ طرح طرح کے استشنائی حالات پیش آتے ہیں ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اخلاقی شعور کے تحت عمل کرنے والا موت سے دوچار ہوتا ہے یا برباد ہو کر رہ جاتا ہے ۔ ہم کیوں کر یقین کر سکتے ہیں کہ افادیت کا لحاظ ایک شخص کے اندر ایک اعلیٰ نیکی کے لیے اتنا پر اسرار تقدس پیدا کر سکتا ہے ۔ کیا افادیت آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کر سکتی ہے کہ وہ سچائی کو بذاتِ خود مقصود و مطلوب سمجھے اور نتائج کا لحاظ کیے بغیر اس پر عمل کرے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader