اسلام دورِ جدید میں
Urdu book, p. 336
By Maulana Wahiduddin Khan
ذھین کائنات نامی کتاب کا مصنف فریڈ ہائل اپنے قیمتی مطالعہ کا خاتمہ ان الفاظ پر کرتا ہے کہ اگر زمین کو کسی مزید اہمیت کا حامل بنایا ہے، اور انسان کو کائناتی اسکیم میں کوئی جگہ پائی ہے تو ضرورت ہوگی کہ ہم افادیت کے نظریہ کو مکمل طور پر ترک کر دیں۔ اگر چہ میرا خیال ہے کہ قدیم طرز کے مذہبی نظریات کی طرف واپسی کچھ مفید نہ ہوگی، مگر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہے کہ ویلیس کے تشریح کے مطابق پر اسرار تقدس ہمارے اندر موجود رہتا ہے اور فردوسی دنیا کی طرف ہمیں اشارہ کرتا ہے کہ کیا ہم اس کی پیروی کریں گے : حقیقت یہ ہے کہ مذہب انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ وہ مذہب کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آج کا انسان بھی اتنا ہی زیادہ مذہب کا ضرورت مند ہے جتنا قدیم زمانہ کا انسان تھا۔ مزید یہ کہ سائنس کی طرف سے مایوسی نے اس کو مزید شدت کے ساتھ مذہب کا مشتاق بنا دیا ہے ۔ مگر جدید انسان کی مشکل یہ ہے کہ وہ مذہب کے نام سے جس چیز کو جانتا ہے وہ صرف بگڑے ہوئے مذاہب ہیں۔ اور بگڑے ہوئے مذاہب کے ساتھ انسانی فطرت کو مطابقت نہیں۔ جدید انسان جب اندرونی تقاضنے سے مجبور ہو کر مذہب کے بارہ میں سوچتا ہے تو اسی بگڑے ہوئے مذہب کی تصویر اس کے سامنے آ جاتی ہے۔ وہ مذہب سے قریب ہو کر دوبارہ مذہب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader