جدید امکانات
Urdu book, p. 350
By Maulana Wahiduddin Khan
کنارے کھڑے ہو کر یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے لیے آگے بڑھنے کا کوئی موقع نہیں۔ وہ حالات کو دیکھ رہے ہیں مگر وہ امکانات کو نہیں دیکھتے۔ ان کی نگاہ " کیا ہے" پر اٹکی ہوئی ہے۔ "کیا ہو سکتا ہے" تک ان کی نگاہ ابھی نہیں پہنچی۔ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے میں بتایا گیا ہے کہ ایک بڑے میدان میں فرعون نے مصر کے جادو گروں کو جمع کیا۔ ان جادو گروں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں میدان میں ڈالیں۔ جادو کے زور سے یہ رسیاں اور لکڑیاں سانپ کی طرح میدان میں دوڑنے لگیں ۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ کے دل میں ڈر پیدا ہوا۔ بشری تقاضے کے تحت انہیں یہ محسوس ہوا کہ سانپوں کی اس فوج کا مقابلہ وہ کس طرح کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ڈرو مت، تمہیں غالب رہو گے۔ تمہارے ہاتھ میں جو عصا ہے اس کو ڈال دو۔ یہ عصا ان کے تمام سانپوں کو نگل جائے گا۔ کامیابی تمہاری ہے لیے ہے نہ کہ ان کے لیے ۔ اس ہدایت کے تحت حضرت موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر پھینکا ۔ اچانک یہ عصا تمام سانپوں سے بڑا سانپ بن گیا۔ جب وہ میدان میں چلا تو جادوگروں کے تمام سانپ اس طرح ختم ہو گئے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ (طہ ۴۹ - ۶۶) مسلمانوں کا حال موجودہ زمانہ میں بلا تشبیہہ ایسا ہی ہو رہا ہے ۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص عصائے موسیٰ اپنے بغل میں لیے ہوئے ہو اور پھر بھی سانپوں سے ڈرتا ہو۔ جیسے کسی کو اللہ نے معجزاتی طاقت دے رکھی ہو مگر وہ جادو گروں کے جادو اور نظر بندوں کی نظر بندی کو دیکھ کر کانپ رہا ہو ۔ جیسے خدا کا قانون پوری طرح کسی کا ساتھ دینے کے لیے موجود ہو مگر وہ انسانوں کے جھوٹے فریب کو دیکھ کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ۔ وسیع تبدیلیاں صلیبی جنگوں (Crusades) کے بعد یورپ کے عیسائی علماء اسلام کی تعلیمات اور اس کی تاریخ کو بگاڑ کر پیش کرتے تھے۔ مگر سائنس کے زور سے انیسویں صدی میں ایک نیا دور شروع ہوا ۔ سائنس میں جن چیزوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے ان میں قطعیت (Exactness) کی بے حد اہمیت ہوتی ہے ۔ اس طرح سائنس کے اثر سے جدید قوموں میں قطعی طرزِ فکر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader