Urdu book · دین کامل

جدید امکانات

Urdu book, p. 357

By Maulana Wahiduddin Khan

تمام قدیم زمانوں میں یہ ایک جائز بات سمجھی جاتی کہ ایک حکمراں اپنی مسلح فوجوں کو لے کر دوسرے ملک میں داخل ہو جائے اور قتل و خون ریزی کے ذریعہ اس پر قبضہ کرے۔ یہ تمام تر ایک جدید ظاہرہ ہے کہ اس قسم کی جارحیت کو بین اقوامی جرم سمجھا جاتا ہے۔ اور بین اقوامی مسائل کو گفت و شنید کے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بین اقوامی زندگی میں ہتھیار کے بجائے نظریہ کا استعمال تمام تر پیغمبر اسلام کی دین ہے۔ موجودہ زمانہ کا یہ عالمی مزاج در حقیقت اس انقلابی لہر کی تکمیل ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں چودہ سو سال پہلے شروع کی گئی تھی۔ پیغمبر اسلام نے سب سے پہلے قوموں کے درمیان یہ سوچ پیدا کی۔ پھر آپ نے اس اصول پر عمل کر کے اس کو ایک زندہ واقعہ کی حیثیت دے دی۔ اس کے بعد یہ طرزِ فکر تاریخی لہر میں شامل ہو گیا ۔ وہ برابر بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ موجودہ فکری انقلاب کی صورت میں اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ تاریخ کا یہ انقلاب عین ہمارے حق میں ہے " حدیبیہ " کے وقت جو موقع وقتی صلح کے ذریعہ حاصل کیا گیا تھا، اب اس نے ایک پورے دور کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ اس انقلاب نے ہمارے لیے ہمیشہ سے زیادہ وسیع پیمانہ پر یہ امکان کھول دیا ہے کہ ہم ایک موافق فضا میں اسلام کی اشاعت کا کام کریں اور اسلام کی فکری طاقت کو استعمال کر کے دوبارہ اس کو دنیا کا غالب دین بنا دیں ۔ دہلی یکم ستمبر ۱۹۸۵

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page