اسلامی دور
Urdu book, p. 358
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی دور مذہب کی تاریخ کا یہ نہایت عجیب پہلو ہے کہ حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح تک تمام پیغمبر لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ مگر اس مدت میں کسی بھی پیغمبر کے زمانہ میں توحید کا پیغام عمومی مقبولیت حاصل نہ کرسکا۔ تمام پیغمبر دنیا سے اس حال میں چلے گئے کہ چند افراد کے سوا کسی نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ دوسری طرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم یہ منظر دیکھتے ہیں کہ قوموں کی قومیں دین توحید کے دائرہ میں داخل ہورہی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ دنیا کا غالب مذہب شرک کے بجائے توحید بن جاتا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا اور آپ کے بعد کا زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ۔ اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام کو اس مشن پر مامور کیا تھا کہ اعلان توحید کے ساتھ آپ دوسرا کام یہ کریں کہ فتنة کو دنیا سے ختم کردیں۔ (الانفال ۳۹) فتنے سے مراد وہی چیز ہے جس کو مذہبی جبر کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں یہ رواج تھا کہ برسر اقتدار لوگ اپنے ناپسندیدہ مذہب کو جبر اور طاقت سے مٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ اس زمانہ میں ارباب اقتدار کا کلمہ حق سمجھا جاتا تھا۔ یہی وہ ماحول تھا جو دین حق کی تبلیغ و اشاعت میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے جو عظیم انقلاب برپا کیا اس کا ایک پہلو یہ تھا کہ اس نے تاریخ میں پہلی بار فتنے یا مذہبی جبر (Religious persecution) کے ماحول کو ختم کر دیا۔ اب دین کی اشاعت کھلی فضا میں ہونے لگی۔ چنانچہ ایک سو سال کے اندر دین حق کی وہ اشاعت ہوگئی جو پچھلے دس ہزار سال میں بھی نہیں ہوئی تھی۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کے جس کارنامہ کو فتنة (یا مذہب ہی جبر) کا خاتمہ کہا گیا ہے، وہ بعد کی تاریخ میں اپنا عمل کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے عالمی افکار پر اثر ڈالا۔ اور آخر کار اقوام متحدہ کے اعلان کی صورت میں مذہبی آزادی کا حق تمام قوموں کے متفقہ فیصلہ کے تحت، ایک ناقابل تنسیخ انسانی حق قرار پاگیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader