Urdu book · دین کامل

اسلامی دور

Urdu book, p. 367

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ کون سا عقیدہ رکھیں اور کون سا عقیدہ نہ رکھیں ۔ یہی پچھلے تمام معلوم زمانوں میں دنیا کا مروجہ طریقہ تھا۔ انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس نے اس تاریخی واقعہ کا اظہار ان لفظوں میں کیا ہے : Ancient society was essentially intolerant. یہ صورت حال خدا کے تخلیقی نقشہ کے خلاف تھی ۔ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے ۔ اس نقشہ تخلیق کا لازمی تقاضا ہے کہ ہر آدمی کو انتخاب (Choice) کی آزادی ہو ۔ اس آزادی کے بغیر امتحان اور جانچ کے کوئی معنی نہیں ۔ مذکورہ صورت حال خدا کے تخلیقی نقشہ میں مداخلت کے ہم معنی تھی ۔ چنانچہ پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کو حکم دیا گیا کہ وہ ارباب فتنہ سے جنگ کر کے ان کے فتنہ کو ختم کر دیں ۔ بالفاظ دیگر، مذہب کے نام پر جبر کو ختم کرنے کے لوگوں کے لیے آزادانہ مذہبی انتخاب کا دروازہ کھول دیں ۔ یہی مطلب ہے وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله (البقره ۱۹۳) کا ۔ اس آیت کا مطلب، دوسرے لفظوں میں ، یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی منصوبہ میں انسان کی مداخلت ختم ہو جائے اور وہ حالت فطری قائم ہو جائے جس پر خدا نے اپنی دنیا کو پیدا کیا ہے ۔ اس طرح اسلامی انقلاب نے مذہبی جبر کو ختم کر کے مذہبی آزادی کا دروازہ کھولا چین اور روس میں جبر کا ہونا اشتراکی نظام کے لیے ایک ایڈوانٹیج ہے۔ لیکن اگر چین اور روس میں آزادی کی حالت قائم ہو جائے تو وہ غیر اشتراکی نظام کے لیے ایڈوانٹیج بن جائے گی اسی طرح قدیم زمانہ میں آزادی انتخاب کا نہ ہونا دین شرک کے لیے ایڈوانٹیج بنا ہوا تھا ۔ اس کے بعد آزادی انتخاب کی بحالی دین توحید کے لیے ایڈوانٹیج بن گئی۔ حالت فطری قائم ہونے کے بعد آدمی صرف فطری دین کو اختیار کرے گا نہ کہ غیر فطری دین کو ۔ اسی راز کو جاننے میں دعوت حق کے عالم گیر امکانات کو جاننے کا راز چھپا ہوا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page