Urdu book · دین کامل

اسلامی دور

Urdu book, p. 366

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صلح حدیبیہ نے ”دس سال“ کے لئے اسلام اور اس وقت کے غیر اسلامی اقتدار کے درمیان حالتِ جنگ کو ختم کر دیا تھا، موجودہ سیکولرزم نے مذہب اور حکومتی ادارہ کے درمیان ابدی طور پر جنگ اور ٹکراؤ کی حالت کو ختم کر دیا ہے۔ قدیم صلح حدیبیہ نے عارضی طور پر میدانِ مقابلہ کو جنگ سے امن کی طرف منتقل کر دیا تھا۔ موجودہ سیکولرزم نے دوبارہ یہ کام اس طرح انجام دیا ہے کہ وقت کے نظام نے منتقل طور پر اپنے آپ کو پابند کر لیا ہے کہ وہ دین کے ساتھ طاقت کے میدان میں ٹکراؤ نہیں کرے گا۔ اس طرح اہلِ دین کے لئے دو بارہ وہی موقع نہایت شاندار طور پر حاصل ہو گیا ہے جو دورِ اول میں اصحابِ رسول کو صلح حدیبیہ کے بعد حاصل ہوا تھا۔ یعنی وقت کے نظام سے ٹکراؤ کا خطرہ مول لئے بغیر دینِ حق کا پیغام تمام لوگوں کو پہنچائیں ۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجائے کہ دونوں کا فرق ہی مٹ جائے۔ اسی خدا کی حکومت زمین پر بھی قائم ہو جائے جس کی حکومت دلوں کے اندر قائم ہوئی تھی۔ خلاصہ اسلام ایک دعوتی مشن ہے۔ دعوتی مشن کے لئے سب سے زیادہ موافق بات یہ ہے کہ اس کی راہ میں فوجی اور سیاسی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ معاہدۂ حدیبیہ کے ذریعہ یہی ہوا تھا کہ وقت کا اقتدار اس بات کا پابند ہو گیا کہ وہ دس سال تک اسلام کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرے گا۔ اس کے نتیجہ میں اسلام ایک سیلاب بن کر ہر طرف پھیل گیا۔ موجودہ زمانہ میں یہی بات زیادہ وسیع پیمانہ پر اس طرح حاصل ہوئی ہے کہ ریاست نے اپنے آپ کو اس کا پابند کر لیا ہے کہ وہ مذہب کے معاملہ میں کوئی مداخلت نہ کرے۔ یہ ایک عظیم دعوتی امکان ہے۔ اسلام دوبارہ ایک فتح مبین“ کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ کچھ خدا کے بندے اٹھیں اور اس امکان کو ایک تاریخی واقعہ بنا دیں۔ قرآن کے مطابق، مذہب کی تاریخ دو بڑے دوروں میں تقسیم ہے۔ ایک ، اسلامی انقلاب سے پہلے کا دور جب کہ دنیا میں فتنہ تھا۔ دوسرا، اسلامی انقلاب کے بعد کا دور جب کہ دنیا سے فتنہ ختم ہو گیا۔ فتنہ کے معنی وہی ہیں جس کو انگریزی میں Persecution کہا جاتا ہے۔ یعنی مذہب کی بنیاد پر کسی کو ستانا۔ قدیم زمانہ میں اقتدار کا یہ مسلم حق سمجھا جاتا تھا کہ وہ لوگوں کو حکم دے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page