اتحاد
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
اتحاد کے لیے صبر کی اہمیت اختلاف سے بچنا اور اتحاد پر قائم رہنا کیسے ممکن ہوتا ہے ، اس کا راز آیت میں صبر بتایا گیا ہے۔ صبر تقریباً وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں ڈسپلن کہا جاتا ہے ۔ ڈسپلن سے مراد ہے ۔ نظم ، سلف کنٹرول ، حقائق کی رعایت کرنا ، اپنے کو قابو میں رکھ کر عمل کرنا۔ یہی صبر ہے ۔ صبر دراصل منظم عمل کا دوسرا نام ہے ۔ جب آدمی کا یہ حال ہو جائے کہ وہ محض اپنے ذاتی جذبے سے بھڑک نہ اٹھے بلکہ خارجی پہلوؤں کو پوری طرح ملحوظ رکھ کر اپنے عمل کا نقشہ بنائے تو اسی کو صبر کہتے ہیں ۔ یہ صبر اتحاد کے لیے لازمی شرط ہے۔ جہاں صبر ہو وہاں لازماً اتحاد بھی ہوگا اور جہاں صبر نہ ہو وہاں یقینی طور پر اتحاد بھی پایا نہیں جاسکتا۔ اتحاد اور دعوت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار اپنے اصحاب کو جمع کیا۔ آپ نے ان کو ابھارا کہ وہ آپ کے پیغام توحید کو لے کر اٹھیں اور اس کو تمام لوگوں تک پہنچا دیں ۔ اس سلسلے میں روایت میں حسب ذیل الفاظ آئے ہیں : ان الله بعثني رحمة للناس كافة اللہ نے مجھ کو تمام انسانوں کے لیے رحمت بنا کر فادّ واحنـی ولا تختلفوا كما اختلف بھیجا ہے تو تم میری طرف سے لوگوں کو دعوت الحواريون على عيسى بن مريم پہنچاؤ اور آپس میں اختلاف نہ کرو جس طرح حواریین (وفي رواية) فقال المهاجرون يا نے عیسی بن مریم سے اختلاف کیا۔ مہاجرین نے جواب رسول الله انا لانختلف عليك في شيئ دیا کہ اے اللہ کے رسول ، ہم آپ سے کبھی کسی معاملہ میں ابداً فمرنا وابعثنا ۔ اختلاف نہیں کریں گے ۔ پس آپ ہم کو حکم دیجیئے اور ہم کو بھیجیئے ۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کا کام کرنے کے لیے بھی اتحاد لازمی طور پر ضروری ہے۔ دعوت حق کا کام ایک بہت بڑا کام ہے اس کو مؤثر طور پر انجام دینے کے لیے مشترکہ جدوجہد بے حد ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے تعاون اور اتحاد ہی سے یہ کام انجام پاسکتا ہے ۔ چار آدمی کہیں تبلیغ کے لیے نکلیں اور راستہ میں وہ آپس میں اختلاف کر لیں تو دوسروں تک پہنچنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی ۔ وہ آپس ہی میں لڑبھڑ کر الگ ہو جائیں گے۔ کوئی دعوتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader