تنقید
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑھا تو آخر میں انھوں نے لکھ دیا کہ آپ اپنے خیالات شائع کر دیجئے" میرے سفر ناموں کی فہرست پہلے ہی خاصی طویل ہے ۔ اس میں آپ کا اضافہ ہو جانے سے کوئی بڑا فرق نہ پڑے گا ۔ (۵۱۵) مولانا مودودی کے ان الفاظ کو پڑھئے اور اس کے بعد فیصلہ کیجئے کہ اُن کی تشریح کے مطابق اِن کے اندر "خلافت" کی رُوح کام کر رہی ہے یا "ملوکیت" کی روح۔ مولانا خود اپنا مقام تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بلا استثنا تمام مجددینِ امت پر تنقید کریں۔ اس سے آگے بڑھ کر صحابہ کرام کی غلطیوں کی نشاندہی کریں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر خلیفہ راشد کا احتساب کریں۔ لیکن خود ان کی ذات پر اگر تنقید کی جائے تو ناقد فوراً ہی اس سزا کا مستحق ہو جاتا ہے جس کو انھوں نے ملوکیت کی طرف منسوب کیا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ ملوکیت با اختیار ہونے کی وجہ سے "قید و قتل اور کوڑوں کی مار" تک جا سکتی تھی اور مولانا صرف قلمی سزا دینے کا اختیار رکھتے ہیں ۔ یہی وہ چیز ہے جس کو مولانا دریا دلی نے "مریضانہ ذہنیت" قرار دیا ہے ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تنقید اجتماعی زندگی کی عظیم ترین بھلائی ہے ۔ شرط صرف یہ ہو کہ تنقید کرنے والا اصول اور انصاف کے مطابق تنقید کرے اور سننے والا مصلحت اور انانیت سے بلند ہو کر اس کو سُنے ۔ شخصی ارتقا اور صحت مند اجتماعیت دونوں وہیں پیدا ہوتے ہیں جہاں تنقید کرنے کا صحیح جذبہ اور تنقید سننے کا واقعی حوصلہ پایا جاتا ہو ذہنی سطح پر غلطی کے بارہ میں غیر روادار ہونا اور عملی سطح پر خیر خواہی اور وسعت ظرف کا معاملہ اختیار کرنا ، اعلیٰ کامیابی کے لئے ضروری ہیں۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر اختلاف کو حدیث میں "رحمت" کہا گیا ہے ۔ " تنقید انسان کے لئے سب سے زیادہ ناقابلِ برداشت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader