غلطی کی نوعیت
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
غلطی کی نوعیت مارکسزم کو تاریخ کی معاشی تعبیر (Economic interpretation) of history کہا جاتا ہے۔ کیونکہ کارل مارکس نے جس طرز پر زندگی اور اُس کے واقعات کی تشریح کی ہے، اس میں معاشی پہلو تمام چیزوں پر غالب آگیا ہے۔ اسی طرح مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے جس ڈھنگ سے دین کو پیش کیا ہے، اس میں ہر چیز پر ایک قسم کا سیاسی رنگ چھا گیا ہے ۔ اس اعتبار سے اگر ان کے فکر کو دین کی سیاسی تعبیر کا نام دیا جائے تو یہ بڑی حد تک ایک صحیح بات ہوگی ۔ زندگی مختلف اجزا کا ایک مجموعہ ہے ۔ یہ اجزا الگ الگ بھی ہیں اور باہم دیگر مربوط بھی۔ اسی کے ساتھ ان میں درجہ کا فرق بھی ہے۔ ان اجزا کو جب ہم بیان کرتے ہیں تو عام طور پر اس کے تین طریقے ہوتے ہیں :- ۱۔ ایک یہ کہ کوئی جزو با عتبار حقیقت یا باعتبار ظاہر پورے مجموعے میں جو انفرادی مقام رکھتا ہے، ٹھیک اس کے مطابق اُسے بیان کرنا ۔ یہ قانونی انداز ہے ۔ ۲۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی جزو کو مخصوص طور پر زور دے کر یا مبالغہ کے ساتھ بیان کیا جائے ۔ ایسا عام طور پر وقتی ضرورت کے تحت ہوتا ہے اور اس کو ہم خطابی انداز کہہ سکتے ہیں ۔ ۳۔ تیسرا طریقہ وہ ہے جس کو میں تعبیر کا نام دیتا ہوں ۔ یہ طریقہ اس وقت وجود میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader