غلطی کی نوعیت
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
آتا ہے جب مختلف اجزاء کو ایک مربوط مجموعہ کی شکل دینے کی کوشش کی جائے ۔ اسی تیسرے طریقی مطالعہ کی ایک قسم یہ ہے کہ مجموعہ کے کسی ایک جزو کو لے کر خصوصیت سے اس کی تشریح اس طرح کی جائے گویا یہی مرکزی جزو ہے۔ وہ پورے مجموعہ کی وہ با معنی کڑی ہو جس کو سمجھنے سے ہم دوسرے تمام اجزاء کو سمجھ سکتے ہیں ۔ زیر نظر مضمون میں تعبیر کا لفظ اسی آخری معنی کے لئے استعمال ہوا ہے ۔ یہاں مثال کے لئے ہم " معاش " کو تین مختلف فقروں میں بیان کرتے ہیں:- ۱۔ انسان جسم اور روح دونوں کا مجموعہ ہے ۔ اس لئے جس طرح اس کو جسم کی ضروریات کے لئے معاشی وسائل کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح اس کو روح کی تسکین کے لئے بھی کچھ چیزوں کی ضرورت ہے ۔ ۲۔ معاش پر زندگی کا انحصار ہے ۔ جو شخص معاشی وسائل سے محروم ہے ، گویا وہ زندگی سے محروم ہے ۔ ۳۔ معاشی حالات تاریخ کی اصل قوت ہیں ۔ وہی پوری زندگی کی صورت گری کرتے ہیں ۔ انسان کے تمام احساسات ، اس کے سارے علوم اور اس کے تمام ادائے اسی کے مطابق بنتے ہیں جیسے اس کے اقتصادی و معاشی حالات ہوں ۔ او پر کی مثالوں میں پہلا فقرہ قانونی اندازِ کلام کی مثال ہے، دوسرا خطابی انداز کی مثال اور تیسرا مذکورہ بالا تشریح کے مطابق تعبیر کی مثال ۔ یہی دین کا معاملہ بھی ہے ۔ اس کے مختلف اجزاء ہیں اور ان اجزاء کو بیان کرنے کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں ۔ فقہ پہلے طرز پر دین کو بیان کرنے کا نام ہے ۔ دعاة اور مصلحین کا کلام بیشتر طور پر دوسرے انداز کی مثال ہے ۔ جہاں تک تیسرے انداز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader