شریعت کی رہنمائی
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
علماء کا قائدانہ کردار قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کے مخاطب اول ہمیشہ ملأ قوم (الاعراف ۸۸) ہوتے تھے۔ یعنی وقت کے سردار ۔ وقت کے سرداروں کو اپنا مخاطب بنانے کے لئے پہلی اور لازمی شرط یہ ہے کہ داعی اور مدعو کی زبان ایک ہو۔ اگر داعی اور مدعو کے درمیان لسانی بعد (language gap) ہو تو ایسے مخاطب کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے پیغمبر بھیجے سب لسانِ قوم (ابراہیم ۴) میں بھیجے، یعنی پیغمبروں کی زبان بھی وہی تھی جو قوم کے اعلیٰ افراد کی زبان تھی۔ علماء پیغمبروں کے وارث ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کے ظہور کے بعد علماء تقریباً ایک ہزار سال تک یہ کام بخوبی طور پر انجام دیتے رہے۔ اس کا ایک بنیادی سبب یہ تھا کہ پچھلے زمانوں میں علماء کی زبان بھی وہی ہوتی تھی جو وقت کے سربر آوردہ طبقہ کی ہوتی تھی۔ دمشق اور بغداد اور قاہرہ اور قرطبہ وغیرہ میں جو نظام اقتدار قائم ہوا ان میں ہمیشہ علماء اپنا قائدانہ رول ادا کرتے رہے۔ اس کا بنیادی سبب بلا شبہ یہی تھا کہ اس زمانہ میں سر بر آوردہ طبقہ کی زبان عربی تھی اور علماء اسلام کی زبان بھی عربی تھی۔ اس طرح دونوں طبقوں کے درمیان کوئی لسانی بعد نہیں پایا جاتا تھا۔ برطانوی اقتدار سے پہلے کے ہندوستان میں بھی یہ صورت حال باقی رہی۔ اس زمانہ کے مسلم ارباب اقتدار عام طور پر فارسی زبان بولتے یا سمجھتے تھے، اور علماء اسلام کی زبان بھی اس زمانہ میں فارسی تھی ۔ اس بنا پر علماء کے لئے ممکن ہو گیا کہ وہ وقت کے سر بر آوردہ طبقہ کو براہ راست مخاطب کر سکیں اور اپنے قائدانہ رول کو کامیابی کے ساتھ ادا کرتے رہیں۔ مثال کے طور پر شیخ احمد سرہندی نے اپنے وقت کے امراء حکومت کو مخاطب کرنا چاہا تو انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ کیوں کہ دونوں کی زبان یکساں طور پر فارسی تھی۔ مگر ہندوستان میں برطانوی اقتدار قائم ہونے کے بعد صورت حال بدل گئی۔ اب یہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader