شریعت کی رہنمائی
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
اس اعتبار سے یہ گویا پر تشدد عمل کے مقابلہ میں پر امن عمل کا انتخاب (choice) لینا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان مسلم رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تشدد کے میدان میں اپنی کوششیں صرف کرنے کے بجائے امن کے میدان میں وہ زیادہ مفید طور پر اپنی کوششوں کا استعمال کریں۔ عجیب بات ہے کہ ۱۹ ویں صدی کے نصف آخر میں تقریباً ایک ساتھ دو مختلف تعلیمی تحریکیں اٹھیں۔ ایک طرف سر سید احمد خاں کی تحریک تھی جو عام طور پر علیگڑھ تحریک کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس تحریک کے ایک رکن مولانا الطاف حسین حالی (وفات (۱۹۱۴) نے اس کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا: بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے تعلیم ہی ہے دوسری طرف مولانا محمد قاسم نانوتوی اور ان کے ہم عصر علماء تھے۔ مولانا نانوتوی سرسید احمد خاں کے ہم سبق تھے، دونوں دتی کالج میں ایک ساتھ مولانا مملوک علی کے شاگرد رہ چکے تھے۔ دونوں کا نشانہ بیک وقت تعلیم تھا۔ فرق یہ ہے کہ سرسید احمد خاں نے انگریزی زبان اور سیکولر علوم کو اپنی تعلیمی تحریک کا مرکز بنایا۔ اس کے مقابلہ میں مولانا نانوتوی اور ان کے ہم عصر علماء کا نشانہ یہ تھا کہ ملت مسلمہ کے درمیان عربی زبان اور دینی علوم کی اشاعت کی جائے۔ سرسید احمد خاں کی تعلیمی تحریک گویا وقت کا تقاضا تھی اور علماء کی تحریک گویا دین کا تقاضا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر اٹھنے والی تحریکوں میں یہی دونوں تحریکیں ہیں جو مثبت معنوں میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔ اس کا سبب بلاشبہ یہی تھا کہ ان دونوں تحریکوں کو پر امن جد و جہد کے اصول پر چلایا گیا۔ علماء اسلام کی طرف سے شروع کی جانے والی مدارس دینیہ کی تحریک وقت کی ایک ضرورت تھی۔ وہ اپنے اندر بھر پور امکانات رکھتی تھی۔ چنانچہ وہ شروع ہونے کے بعد پھیلتی رہی، یہاں تک کہ اب وہ اس تو سیمی مرحلہ تک پہنچ چکی ہے کہ ہر جگہ اس کے مظاہر دیکھے جاسکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader