Urdu book · دین و شریعت

شریعت کی رہنمائی

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

درس گاہ سے فارغ ہو کر اقوام عالم میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام (التوبہ ۱۲۲) انجام دیں۔ اسلام کے ظہور کے بعد مسلسل یہ کام جاری رہا۔ ہر دور میں جو دینی مدارس قائم کئے گئے ان کا خاص مقصد یہی تھا کہ ان کے نظام کے تحت ایسے علماء تیار ہوں جو مسلمانوں کی دینی رہنمائی کے ساتھ اسلام کی عمومی اشاعت کا فریضہ بھی انجام دے سکیں۔ مدارس کا یہ نظام کم و بیش آج بھی جاری ہے۔ مگر بعد کے اسباب کے تحت مدارس کا یہ شعبہ دعوتی اسلوب کے بجائے مناظرہ کے اسلوب پر قائم ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مدارس حقیقی اسلامی تبلیغ کے میدان میں عملاً غیر موثر ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہمارے مدارس سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں علماء تیار ہو کر نکل رہے ہیں مگر وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ اسلام کی دعوتی ضرورت کو پورا کر سکیں۔ اس کا سبب زمانی حالات کا فرق ہے۔ ہمارے مدارس میں بظاہر آج بھی طلبہ کو نصابی یا غیر نصابی ذرائع سے دعوت و تبلیغ کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ مگر یہ تیاری تمام تر مناظرہ کے اصول پر ہوتی ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں دعوت کے اصول پر۔ مدارس کے طلبہ علم مناظرہ تو پڑھتے ہیں مگر وہ علم دعوت سے آشنا نہیں ہوتے۔ وہ اچھے مناظر تو ہوتے ہیں مگر وہ اچھے داعی نہیں ہوتے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ہمارے مدارس کے فارغین کو عملاً دعوت و تبلیغ کے لئے غیر موزوں بنا دیا ہے۔ قدیم زمانہ مناظرہ (debate) کا زمانہ تھا۔ مناظرہ کا یہ طریقہ قدیم "دور شمشیر" کے زیر اثر پیدا ہوا۔ شمشیر کا عمل ہار جیت کے اصول پر قائم تھا۔ اس کا اصول یہ تھا کہ میدان جنگ میں جو شخص جیتے وہ کامیاب، اور جو شخص ہارے وہ ناکام۔ اسی مخصوص فضا کے تحت مناظرہ کا فن پیدا ہوا جو خود بھی جیت اور ہار کے اصول پر مبنی تھا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ میدان جنگ میں تلوار جیت اور ہار کا فیصلہ کرتی تھی اور میدان مناظرہ میں الفاظ سے جیت اور ہار کا یہ کام لیا جاتا تھا۔ اس قسم کا مناظرہ قدیم دور کے حالات میں بہت مقبول ہوا۔ ہر طرف اس کی دھوم ہونے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page