Urdu book · دین و شریعت

شریعت کی رہنمائی

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

لگی، مگر موجودہ زمانہ میں یہ رجحان مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ موجودہ زمانہ سائنسی تجزیہ کا زمانہ ہے نہ کہ لفظی جدال کا زمانہ۔ چنانچہ پہلے جہاں مناظرہ کی مجلسیں منعقد ہوتی تھیں، اب وہاں سنجیدہ ڈائیلاگ (serious dialogue) کی مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ زمانی تبدیلی تقاضا کرتی ہے کہ مدارس کے نظامِ تعلیم کو اس سے ہم آہنگ کیا جائے۔ طلبہ کو مناظرہ اور مجادلہ کے بجائے علمی ڈسکشن (scientific discussion) کے لئے تیار کیا جائے۔ مناظرہ اور ڈائیلاگ میں کیا فرق ہے، وہ فرق بنیادی طور پر یہ ہے کہ مناظر پیشگی طور پر فریق ثانی کو اپنا حریف سمجھتا ہے۔ مناظر کے دل میں فریق ثانی کے لئے خیر خواہی کا جذبہ نہیں ہوتا۔ وہ فریق ثانی کی اصلاح سے زیادہ اس کی شکست سے دلچسپی رکھتا ہے۔ مناظر کے اس ذہن کی بنا پر مناظرہ کا پورا عمل ایک قسم کی لفظی کشتی بن جاتا ہے۔ مناظر کی زبان آرا کی طرح تیز ہو جاتی ہے نہ کہ پھول کی طرح نرم۔ یہاں تک کہ یہ نوبت آجاتی ہے کہ مناظر کو اس سے دلچسپی نہیں رہتی کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ اس کی ساری دلچسپی اس سے ہوتی ہے کہ ایک ماہر وکیل کی مانند کسی نہ کسی طرح وہ فریق ثانی کو میدان مقابلہ میں ہرا دے۔ ۱۸۷۴ سے پہلے ہونے والے مناظروں کی رودادیں پڑھ کر اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مناظرہ اور دعوت کے فرق کو قرآن کی زبان میں بیان کرنا ہو تو وہ ایک لفظ میں یہ ہوگا کہ دعوت کا نشانہ آدمی کا قلب ہوتا ہے۔ داعی ایسی بات کہنے کی کوشش کرتا ہے جو فریق ثانی کے دل میں اتر جانے والی ہو (النساء (۲۳)۔ اس کے برعکس مناظر کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح فریق ثانی کو مقابلہ کے میدان میں پچھاڑ دے۔ مگر مناظرہ کا یہ طریقہ پیغمبروں کی سنت کے مطابق نہیں۔ یہ ایک لازمی ضرورت ہے کہ اس معاملہ میں مدارس کے نظام کو بدلا جائے۔ اس کو مناظرہ کے بجائے دعوت کے قرآنی اصول پر قائم کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page