Urdu book · دین و شریعت

علم کا چشمہ رواں

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

مغربی کلچر دراصل مرچنٹ کلچر تھا جس نے ہر چیز بشمول تعلیم کو کمرشلائز کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں ساری اہمیت ملازمت رخی تعلیم (job oriented education) کی ہو گئی۔ تعلیم کو ملازمت (job) سے مربوط کر دیا گیا۔ اب سرٹیفیکیٹ دینے والے اسکول اور کالج کا رواج بڑھنے لگا یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ سیکولر تعلیم کے دائرہ میں انفرادی تلمذ کا سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ کیوں کہ مطلوب ڈگری منظور شدہ تعلیمی اداروں کے ذریعہ ملتی ہے نہ کہ انفرادی علمی صحبتوں کے ذریعہ۔ اس تبدیلی کا فطری اثر وقت کے دینی نظام تعلیم پر بھی پڑا۔ یہ تعلیمی سلسلہ جس کو میں نے علم کے چشمہ رواں کے دودھارلے قرار دیا ہے وہ میرے لئے صرف ایک تاریخی خبر کی چیز نہیں بلکہ وہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ اللہ کے فضل سے مجھے یہ موقع ملا کہ میں علم کے ان دونوں دھاروں سے کسب فیض کروں اور بھرپور طور پر ان سے سیراب ہوں۔ یہاں میں اس سلسلہ میں اپنے ان بعض تجربات کا ذکر کروں گا جن میں عمومی سبق موجود ہے۔ میں غالباً ۱۹۳۰ء میں اپنے گاؤں کے مدرسہ میں داخل کیا گیا۔ یہاں میں نے الف ب سے اپنی تعلیم شروع کی۔ گاؤں کے اس مدرسہ میں میرے استاد مولانا فیض الرحمن اصلاحی مرحوم تھے جو مدرسۃ الاصلاح کے بانی مولانا محمد شفیع صاحب مرحوم کے فرزند تھے۔ مولانا فیض الرحمن اصلاحی جو ایک ذی استعداد عالم تھے، وہ نہ صرف میرے مدرسی استاد تھے بلکہ وہ میرے خصوصی معلم بھی تھے۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ گاؤں کے اس مدرسہ میں شاید میں پہلا طالب علم تھا جس نے وہاں ابتدائی فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی۔ جب کہ دوسرے طلباء زیادہ تر اردواور ناظرہ قرآن تک پڑھائی پر اکتفا کرتے تھے۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے اپنے زمانہ تشکیل (formative period) میں مولانا فیض الرحمن اصلاحی جیسا مخلص عالم ملا جس نے ابتدائی عمر ہی میں میرے اندر تحصیل علم کا شوق پیدا کر دیا جو پھر کبھی ختم نہ ہو سکا۔ مدرسہ کی رسمی تعلیم کے علاوہ میرا گھر بھی میرے لئے مستقل طور پر ایک غیر رسمی درس گاہ بنارہا۔ میرے والد فرید الدین خاں مرحوم کے انتقال (۱۹۲۹) کے بعد میرے عم زاد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page