علم کا چشمہ رواں
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
برادر بزرگ مولانا اقبال احمد خاں سہیل ایڈوکیٹ، ایم اے، ایل ایل بی گویا میرے سرپرست تھے۔ وہ نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ وہ گہری علمی دستگاہ رکھتے تھے۔ انہوں نے وقت کے اساتذہ سے فارسی اور عربی کی کتابیں سبقاً سبقاً پڑھی تھیں، مثلاً مولانا محمد شفیع صاحب (بانی مدرسہ الاصلاح)، مولانا شبلی نعمانی، مولانا حمید الدین فراہی، وغیرہ۔ بعد کو انہوں نے علی گڑھ میں داخلہ لیا اور وہاں سے ایم اے ایل ایل بی کی ڈگری لی۔ اور اعظم گڑھ میں وکالت کرنے لگے۔ اس کے بعد وہ ’مسٹر‘ ہو گئے اور ’صاحب‘ کہے جانے لگے۔ تاہم جہاں تک ان کے ساتھ میرے علمی استفادہ کا تعلق ہے وہ آخر عمر تک جاری رہا۔ مولانا اقبال احمد سہیل مرحوم کے ساتھ میرا یہ تعلیمی استفادہ اس قدیم دور کی یاد دلاتا ہے جب کہ ہر صاحب علم اپنی ذات میں ایک درس گاہ ہوتا تھا۔ زمانہ قدیم کے اکثر علماء اسی قسم کی انفرادی درس گاہوں میں تعلیم پا کر علم کے بڑے مرتبہ تک پہنچے۔ میرے بزرگ چاچو صوفی عبدالمجید خاں صاحب کو یہ شوق تھا کہ خاندان میں ایک ایسا شخص ہو جو مدرسہ کی تعلیم و تربیت حاصل کرے اور وہ باقاعدہ عالم ہو۔ چنانچہ انہوں نے ۱۹۳۸ میں اپنے صرف پر ایک مستطیع طالب علم کی حیثیت سے میرا داخلہ مدرسہ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ) میں کرایا اور اپنی ذاتی نگرانی میں میری تعلیم کی تکمیل کرائی۔ مدرسی انداز پر میری رسمی تعلیم اسی ادارہ میں ہوئی۔ مدرسہ الاصلاح کی باقاعدہ تعلیم کے دوران جن اساتذہ سے مجھے علمی استفادہ کا موقع ملا، ان میں سے کچھ کا ذکر اس کتاب کے دوسرے صفحات میں موجود ہے۔ مدرسہ الاصلاح کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد میرے اوپر ایک لمبا دور ایسا گزر رہا ہے جب کہ میں کتب خانوں میں گم رہا۔ مثلاً دار المصنفین اعظم گڑھ کا کتب خانہ اور اسی طرح دوسرے بہت سے کتب خانے اور لائبریریاں۔ اس دوران میں نے قرآن وحدیث اور سیرت اور دوسرے اسلامی علوم کو از سر نو زیادہ تفصیل کے ساتھ پڑھا۔ اعظم گڑھ کے زمانہ قیام میں اسی کے ساتھ مختلف علماء سے انفرادی کسب فیض کا سلسلہ بھی برابر جاری رہا۔ مثلاً شاہ معین الدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader