Urdu book · دین و شریعت

علم کا چشمہ رواں

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

احمد ندوی، مولانا اقبال احمد سہیل و غیرہ (ملاحظہ ہو ”مولانا سہیل “ مطبوعہ مضامین رشید، از پروفیسر رشید احمد صدیقی) میں ۱۹۵۶ میں جماعت اسلامی ہند کے مرکزی شعبہ تصنیف سے وابستہ ہوا۔ اس وقت جماعت اسلامی ہند کا مرکزی دفتر اور اس کا شعبہ تصنیف و تالیف دونوں رام پور (یوپی) میں تھے۔ یہاں کے زمانہ قیام میں مولانا جلیل احسن ندوی (وفات (۱۹۸۱) میرے عربی کے استاد بنے رہے۔ مولانا مرحوم کو ادب عربی پر غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ ان سے میرا تعلیمی استفادہ مسلسل جاری رہا۔ اس زمانہ میں رام پور میں ایک جید عالم مولانا عبدالوہاب صاحب رہتے تھے۔ ان سے بھی مجھے بار بار علمی استفادہ کا موقع ملا۔ رام پور کے زمانہ قیام میں مولانا صدرالدین اصلاحی (وفات (۱۹۹۸) سے بھی مجھے مسلسل علمی استفادہ کا موقع ملا۔ ۱۹۶۳ میں مجلس تحقیقات و نشریات اسلام (لکھنؤ) سے وابستہ ہوا اور دار العلوم ندوة العلماء میں اقامت اختیار کی۔ اس سلسلہ میں کئی سال تک میرا قیام دار العلوم ندوۃ العلماء کے کیمپس میں رہا۔ اس قیام کے زمانہ میں مسلسل میں وہاں کے سینئر اساتذہ سے استفادہ کرتا رہا۔ مثلاً مولانا محمد اسحاق سندیلوی، مولانا محمد اویس ننگرامی، مولانا عبد الحفیظ بلیادی، مولانا محمد تقی امینی ، وغیرہ۔ اس فہرست میں بلاشبہ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا نام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ لکھنؤ کے زمانہ قیام میں مجھے مسلسل طور پر مولانا عبد الباری ندوی وفات (۱۹۷۶) سے علمی استفادہ کا موقع ملتا رہا جو ندوہ سے قریب ہی لکھنؤ میں رہتے تھے۔ میں نے ۱۹۶۶ کے آخر میں ان سے بیعت بھی کر لی۔ وہ مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مجاز تھے۔ میں دہلی سے ۱۹۶۷ میں آیا۔ اس کے بعد پھر دہلی ہی میں مستقل طور پر مقیم ہو گیا۔ یہاں بھی میرا تعلق مسلسل طور پر دہلی کے مدارس اور دہلی کے علماء سے جاری رہا۔ مثلاً مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانی، مولانا محمد میاں سابق ناظم جمعیۃ علماء ہند، مولانا قاضی سجاد حسین، صدر مدرس مدرسہ عالیہ فتح پوری، مولانا عبد الحلیم صدیقی، مولانا عبد الخالق نقوی، وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page