دین و شریعت
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
دہلی میں اپنی آمد ۱۹۷۷ کے بعد کثرت سے میں علی گڑھ کا سفر کرتا رہا۔ وہاں مولانا محمد تقی امینی (ناظم دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) اور مولانا سعید احمد اکبر آبادی وغیرہ سے علمی استفادہ کا سلسلہ جاری رہا۔ اس در میان ایک بار کئی مہینہ تک مستقل طور پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی جامع مسجد میں قیام کیا۔ اوپر جو مثالیں دی گئی ہیں وہ براہ راست طور پر تحریک مدارس کے ثمرات کا نتیجہ تھیں۔ یہ دراصل تحریک مدارس ہی کا کارنامہ ہے کہ ہر بستی اور ہر شہر میں ایسے تعلیمی ادارے قائم ہو گئے جہاں میں اور میرے جیسے دوسرے بہت سے لوگ داخلہ لے کر باقاعدہ طور پر دینی تعلیم حاصل کر سکیں۔ اسی طرح تقریبا ہر جگہ ایسے علماء وجود میں آگئے جو علمی تشنگی رکھنے والے کسی شخص کے لئے حصول فیض کا ذریعہ بن سکیں۔ اپنے آبائی گاؤں سے لے کر دہلی کے زمانہ قیام تک میرے تقریبا ۸۰ سالہ سفر حیات میں ہر جگہ مجھ کو ایسے تعلیمی ادارے ملے اور ہر جگہ ایسی علمی شخصیتیں موجود تھیں جن سے میں استفادہ کر کے اپنے دینی علم کو ترقی دیتا رہا۔ اور یہ سب کچھ بلا شبہ تحریک مدارس کی وجہ سے ممکن ہوا۔ فوائد و برکات دینی مدارس کے فائدے اور برکتیں بہت زیادہ ہیں اور ان کا تعلق زندگی کے مختلف پہلوؤں سے ہے۔ جس طرح علم کے فائدے کی کوئی حد نہیں، اسی طرح مدرسہ یا تعلیم گاہ کے فوائد کی بھی کوئی حد نہیں۔ یہاں صرف علامتی طور پر اس کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ علم دین کا تسلسل مدارس دینیہ کے ذریعہ مسلمانوں کو مختلف قسم کے فائدے حاصل ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک فائدہ وہ ہے جس کو علم دین کا تسلسل یا استمرار کہا جا سکتا ہے۔ یہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر مدارس دینیہ ہی کا کارنامہ ہے کہ علم دین کا سلسلہ نسل در نسل بر صغیر ہند میں جاری رہا۔ جو کسی قوم کو مسلسل زندہ رکھنے کے لئے لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے میں ایک واقعی مثال دوں گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader