فوائد و برکات
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۹۴ء میں، میں نے اسپین (اندلس) کا سفر کیا۔ اسپین کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب وہاں مسلمانوں کا آٹھ سو سالہ سیاسی اقتدار ختم ہوا تو اسی کے ساتھ وہاں کے مسلمانوں کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ مسلمان یا تو مار ڈالے گئے یا وہاں سے بھاگ کروہ باہر چلے گئے۔ مگر اسپین کے سفر کے بعد مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کے خاتمہ (۱۹۹۲ء) کے بعد بھی اسپین میں مسلمان ہزاروں کی تعداد میں باقی رہے۔ جو حادثہ پیش آیا وہ یہ نہیں تھا کہ اسپین سے مسلمانوں کا وجود مٹ گیا ہو، جو بات ہوئی وہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی بعد کی نسلوں میں تعلیم دین کا تسلسل (استمرار) ٹوٹ گیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، مسلم اسپین میں علم کو بہت زیادہ فروغ ہوا مگر یہ سارا کام وہاں حکومت کی سر پرستی میں ہو رہا تھا۔ تعلیم و تدریس اور اشاعت دین کا سارا کام حکومت کر رہی تھی۔ یہ کام اتنا زیادہ بڑھا کہ کہا جاتا ہے کہ اس زمانہ میں اسپین کے مسلمان تقریباً صد فی صد تعلیم یافتہ ہو گئے تھے۔ حکومت کے خاتمہ کے بعد جب اس کی تعلیمی سر پرستی ختم ہوئی تو اسی کے ساتھ تعلیم کا سارا نظام بھی ختم ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد کی مسلم نسلوں میں علم دین کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ نسل در نسل یہ انقطاعی حالت قائم رہی یہاں تک کہ لوگ اپنی دینی شناخت کھو بیٹھے۔ اسپین کے مقامی معاشرہ میں وہ اس طرح ضم ہو گئے کہ انھیں یہ بھی یاد نہ رہا کہ ان کے آبا و اجداد پہلے کبھی مسلمان تھے۔ انیسویں صدی میں جب ہندوستان میں مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا تو یہاں کی مسلم نسلوں کے لئے بھی اسی قسم کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ یہاں بھی تعلیم و تدریس کا پورا کام حکومت کی سر پرستی میں انجام پاتا تھا۔ حکومت کے خاتمہ کے جو حالات پیدا ہوئے اس کے نتیجہ میں خارجی سر پرستی تقریباً ختم ہو گئی، مگر اس نازک موقع پر اللہ تعالیٰ نے علمائے اسلام کو کھڑا کیا۔ انھوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ حکومت کے تعاون کے بغیر عام مسلمانوں کی مدد سے تعلیم دین کا نظام چلایا جائے۔ اللہ کی خصوصی توفیق سے یہ منصوبہ کامیاب رہا اور بڑھتے بڑھتے یہ حال ہوا کہ سارے ملک میں چھوٹے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader