فوائد و برکات
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
لئے استعمال کر سکوں۔ اگر میں مطالعہ کتب کی صلاحیت سے محروم رہتا تو ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تھا۔ لہذا میں صرف انہی چند باتوں کو جانتا جن کو میں نے اپنے آس پاس کے لوگوں سے اتفاقاً سن ہو۔ مگر پڑھنے کے قابل ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں اپنے تمام وقت کو علم و واقفیت کے اضافہ کے لئے استعمال کر سکتا تھا۔ پڑھنے کی صلاحیت کا یہ عظیم فائدہ ہے کہ آدمی اس حیثیت میں ہو جاتا ہے کہ وہ ساری دنیا کے اہل دماغ، حتیٰ کہ وفات یافتہ انسانوں کی علم و تحقیق سے بھی واقفیت حاصل کر سکے۔ کسی کا قول ہے کہ جس کے پاس کتاب ہے وہ اکیلا نہیں ہے۔ یہ بات لفظ بلفظ درست ہے۔ ایک تعلیم یافتہ آدمی کتابوں کے ذریعہ اپنے دن اور رات کو عالی دماغ انسانوں کی صحبت میں گزارنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی کوئی اور خوش قسمتی نہیں ہو سکتی۔ دینی مدارس نے بے شمار لوگوں کو یہی تحفہ دیا ہے۔ ان مدارس نے لوگوں کو اس قابل بنایا کہ جو کچھ وہ سن نہیں سکتے اس کو پڑھ کر جان لیں۔ جن اعلیٰ انسانوں کو انہیں دیکھنے کا موقع نہیں ملا وہ ان کی کتابوں کے ذریعہ ان کے ہم نشین بن جائیں۔ ابتدائی عمر سے میرا یہ مزاج ہے کہ میں چھوٹی چھوٹی چیزوں پر غور کرتا ہوں جس کو عام طور پر لوگ قابل غور نہیں سمجھتے۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر مجھ کو چھوٹی چھوٹی باتوں میں بڑے بڑے سبق ملتے ہیں۔ یہی وہ مخصوص صفت ہے جس کو قرآن میں "توسم" (الحجر ۷۵) کہا گیا ہے۔ مثال کے طور پر مدرسہ کی زندگی میں میں نے وہاں کے استاد مولانا سعید احمد ندوی سے کچھ کتابیں پڑھیں جن میں حدیث کی کتاب بھی شامل تھی۔ حدیث کو پڑھتے ہوئے میرے اندر ایک عجیب احساس پیدا ہوا۔ میں نے سوچا کہ رسول اللہ ﷺ نے جو باتیں ۱۴۰۰ سال پہلے کہی تھیں اور جن کو سننے کے لئے میں وہاں موجود نہ تھا ان کو میں آج کتاب میں پڑھ رہا ہوں۔ اسی طرح میں نے مولانا داؤد اکبر اصلاحی سے کئی کتابیں پڑھیں۔ دروس التاریخ الاسلامی پڑھتے وقت خاص طور پر مجھے یہ احساس ہوا کہ جن واقعات میں میں شخصی طور پر شریک نہ تھا ان کو میں آج کتاب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader