فوائد و برکات
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑے بے شمار مدارس کا جال بچھ گیا۔ اسی تعلیمی منصوبہ کا نتیجہ تھا کہ ہندوستان اسپین جیسے حالات سے مکمل طور پر پہنچ گیا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اس ملک کے مسلمان آج پوری دینی شناخت کے ساتھ یہاں رہ رہے ہیں۔ ان کی دینی زندگی یہاں اتنی مستحکم ہو چکی ہے کہ بار بار یہاں مختلف قسم کے طوفان آتے ہیں مگر وہ مسلمانوں کی دینی زندگی کے لئے کوئی خطرہ نہیں بنتے۔ ایک انگریزی مثل کے مطابق، اس ملک کے مسلمان ہر موقع پر طوفان کی بڑی چڑیا (big bird of the storm) ثابت ہوئے ہیں۔ اور یہ سارا کریڈٹ بڑی حد تک علماء کے قائم کردہ اس تعلیمی نظام کو جاتا ہے جس کو مدارس دینیہ کا نظام کہتے ہیں، جو نسل در نسل مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کا کام انجام دے رہا ہے۔ کتابوں تک رسائی حدیث میں آیا ہے کہ : قيّدوا العلم بالكتاب (الدارمی، مقدمة) یعنی علم کو لکھ کر محفوظ کرو۔ اس کے مطابق، ایک علم وہ ہے جو بشکل تحریر محفوظ ہو اور دوسرا علم وہ ہے جس کو تحریری طور پر محفوظ نہ کیا گیا ہو۔ عالم اور جاہل میں یہ فرق ہے کہ جاہل کی رسائی صرف غیر محفوظ علم تک ہوتی ہے اور عالم کی رسائی محفوظ علم تک بھی اور غیر محفوظ علم تک بھی۔ ایک شخص جو پڑھنا نہ جانتا ہو وہ صرف انہی باتوں کو جان سکتا ہے جن کو وہ سن سکتا ہو۔ وہ علوم جو اس کی سماعت سے باہر کتابوں اور تحریروں کی صورت میں محفوظ کئے گئے ہیں، ان علوم تک ایک جاہل کی رسائی ممکن نہیں، جب کہ علم کا 99 فی صد سے زیادہ حصہ وہی ہے جس کو تحریر کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ تعلیم گاہیں اس محفوظ علم تک انسانوں کو پہنچنے کے قابل بناتی ہیں۔ میرا ذاتی معاملہ یہ ہے کہ میں فطری طور پر ایک تنہائی پسند آدمی ہوں۔ ایک بار ایک عرب شیخ نے مجھ سے میرے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ انا رجل يحب العزلة (میں ایک تنہائی پسند آدمی ہوں)۔ مدرسہ کی تعلیم نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں اپنی تنہائی کو بھی مکمل طور پر حصول علم کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader