فوائد و برکات
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
اس لئے کیا ہے تا کہ مدرسہ کے تحت جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں وہ پڑھنے والوں کو زیادہ حقیقی اور واقعی (factual) نظر آئے۔ یہ دراصل شخصی تجربہ کے حوالہ سے ایک عمومی حقیقت کا اظہار ہے۔ ان انفرادی واقعات کی تعمیم (generalisation) کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے کہ مدارس کے ماحول میں لوگوں کو کس قسم کی روحانی اور انسانی تربیت دی جاتی ہے۔ سلائی ہاؤس دینی مدارس کا ایک اور عظیم فائدہ وہ ہے جس کو ایک لفظ میں سلائی ہاؤس کہا جا سکتا ہے۔ سلائی ہاؤس سے کیا مراد ہے اس کو میں ایک مثال سے واضح کروں گا۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں بہت بڑے پیمانہ پر اسکول اور کالج اور یونیورسٹی کی صورت میں ایک عظیم تعلیمی ڈھانچہ قائم ہے۔ اس تعلیمی نظام کو ہمارے ملک کی حکومت بہت بڑی مالی مدد دے کر چلا رہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ سیکولر تعلیمی ادارے ملک کے لئے ایک عظیم سلائی ہاؤس کا کام کر رہے ہیں۔ ملک کو مسلسل ایسے افراد کی ضرورت ہے جو اس کی اقتصادی اور قومی مشین کو چلا سکیں۔ یہ ادارے یہی کام انجام دے رہے ہیں۔ ملک کو اپنے مختلف شعبوں کے لئے مسلسل قابل اعتماد کارکن درکار ہیں ٹیچر، کلرک، افسر، منیجر، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، سپر وائزر، ایڈیٹر، پائلٹ، سکریٹری، ایڈمنسٹریٹر، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سارے افراد انہی سیکولر تعلیمی اداروں سے پیدا ہو رہے ہیں جن کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ وسیع مسلم ملت کا بھی ہے۔ اس ملک میں بسنے والی تقریبائیں کرور مسلم ملت کو مسلسل ایسے افراد درکار ہیں جو اس کی مختلف دینی دلی ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔ ان سارے افراد کی فراہمی کے لئے مدارس دینیہ گویا ایک مستقل ’’سلائی ہاؤس‘‘ کا کام کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں اس وقت تقریباً پانچ لاکھ مسجدیں ہیں ان مسجدوں کو امام انہی دینی مدارس سے ملتے ہیں۔ بے شمار تعلیمی اداروں کو یہیں سے مدرسین سپلائی ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ملی اداروں کے لئے ناظم، تصنیف و تالیف کے شعبوں کے لئے مصنف، ملی صحافت کے لئے ایڈیٹر، انہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader