Urdu book · دین و شریعت

فوائد و برکات

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

مدارس سے سلائی ہوتے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں میں بہت سی جماعتیں قائم ہیں۔ ان تمام جماعتوں کو بھی اکثر افراد اسی سلائی ہاؤس سے فراہم ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر تبلیغی جماعت براہ راست طور پر مدارس کی پیداوار ہے۔ یہ مدارس میں تیار ہو نے والے علماء ہی تھے جنہوں نے اس جماعت کو شروع کیا اور پھر اس کو موجودہ عالمی وسعت تک پہنچایا۔ اس سلسلہ میں ایک نہایت اہم سبق آموز بات یہ ہے کہ منفی اقدام ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتا ہے۔ جب کہ مثبت اقدام نہ صرف اپنے اصل نشانہ کو پورا کرتا ہے بلکہ اس کے ذریعہ بہت سے مزید فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں جس کا اس کے ابتدائی رہنماؤں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانہ میں ایک نئی چیز وجود میں آئی جس کو کمپیوٹر کہا جاتا ہے۔ اس کے لئے ہر جگہ اردو آپریٹر اور عربی آریٹر کی ضرورت تھی۔ کمپیوٹر کے اس نئے کام کے لئے بھی افراد کار زیادہ تر مدارس دینیہ کے سلائی ہاؤس ہی سے فراہم ہوئے۔ موجودہ زمانہ کی سیکولر یونی ورسٹیوں میں اسلامک اسٹڈیز اور مسلم تاریخ کے مطالعہ کے نام پر ایسے شعبے کھلے جن میں داخل ہو کر مسلمان یونی ورسٹی کی سطح پر اسلام کی علمی نمائندگی کر سکیں۔ ان شعبوں کے لئے افراد بھی انہی مدارس دینیہ سے حاصل ہوئے۔ اسی طرح سفارت خانوں اور ریڈیو اور امور خارجہ سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبوں نیز ثقافتی اداروں اور بر آمدی تجارت وغیرہ کے لئے اردو داں اور عربی داں افراد کی ضرورت پیش آئی۔ یہ ضرورت بھی زیادہ تر مدارس دینیہ کے سلائی ہاؤس سے پوری ہوئی، وغیرہ۔ موجودہ زمانہ میں صنعتی انفجار (industrial explosion) کے بعد لوگوں کے لئے عام مواقع کھلے کہ وہ دنیا کے مختلف ملکوں میں بڑی تعداد میں جاسکیں۔ ان جانے والوں میں ایک قابل لحاظ تعداد ان لوگوں کی بھی تھی جو مدارس دینیہ میں تعلیم پائے ہوئے تھے۔ ان لوگوں کا بیرونی ملکوں میں جاکر قیام کرنا ایک مزید فائدے کا سبب بنا۔ ان لوگوں کے بیرونی ملکوں میں آباد ہو نے ہی کا یہ فائدہ تھا کہ بعد کو جب اردو داں علماء نے اپنے دینی اسفار کے تحت ان ملکوں کا دورہ کیا تو یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page