Urdu book · دین و شریعت

فوائد و برکات

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

عربی کا ایک مقولہ ہے کہ تعرف الاشیاء باضدادھا (چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں)۔ اس اصول کے مطابق، تھوڑی دیر کے لئے ملک سے مدارس دینیہ کے وجود کو حذف کر دیجئے۔ اس کے بعد یہ سوچئے کہ ملک میں اگر کوئی ملی تحریک چلائی جائے تو اس کا انجام کیا ہوگا۔ وہ انجام یہ ہو گا کہ شروع ہوتے ہی یہ تحریک محسوس کرے گی کہ ملک میں قدم رکھنے کے لئے اس کے پاس کوئی زمین یا معاون ڈھانچہ موجود نہیں۔ کسی صحت مند تحریک کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ جب شروع ہو تو وہ لوگوں کو ایک ہی فائدہ نہ دے بلکہ لوگوں کو اس سے متنوع قسم کے فائدے حاصل ہوں۔ وہ نہ صرف یہ کہ کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ کرے بلکہ وہ ہر متوقع اور غیر متوقع پہلو سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتی رہے۔ یہی معاملہ مدارس دینیہ کی تحریک کا تھا۔ وہ پورے معنوں میں ایک صحت مند تحریک تھی۔ اس لئے وہ ہر اعتبار سے مفید بنتی رہی۔ اس کی افادیت کی لمبی فہرست میں ایک چیز وہ بھی ہے جس کو انفرااسٹرکچر کہا جاتا ہے۔ مدارس دینیہ کی تحریک کے درست ہونے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس سے ملت کے اندر صحیح مزاج پیدا ہوا۔ وہ صحیح زاویہ نظر پیدا ہوا جس سے لوگ چیزوں کو درست طور پر دیکھ سکیں۔ ملت منفی نقطہ نظر سے بچ کر مثبت نقطۂ نظر کی حامل بن گئی۔ ملت کے افراد موانع سے ٹکرانے کے بجائے مواقع کو استعمال کرنے لگے، وغیرہ۔ اچھے شہری مدارس دینیہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان کے ذریعہ ملک کو اچھے شہری فراہم ہو رہے ہیں۔ اچھے شہری، یعنی ایسے لوگ جو اخلاقی اصولوں اور انسانی قدروں کے مطابق جینے والے ہوں۔ ایسے افراد کی ضرورت ہر سماج کو ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھے شہری کے بغیر کوئی سماج اچھا سماج نہیں بن سکتا۔ مگر آج کے ہندوستان میں ایسے ادارے موجود نہیں جو اچھے شہری بنانے کا کام کر رہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page