فوائد و برکات
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ مدارس اصلاح دینی تعلیم کے لئے قائم کئے گئے تھے مگر قانون فطرت کے تحت وہ ایک ایسے انفراسٹرکچر کی صورت اختیار کر گئے جو اس ملک میں ہر دینی اور ملی مہم کے لئے بنیاد کا کام دے سکیں۔ چنانچہ بیسویں صدی میں جتنی بھی دینی یا ملی تحریکیں اس خطۂ ارض میں اٹھائی گئیں، ان سب کے لئے بنیادی زمین یہی ادارے بنے جن کو مدارس دینیہ کہا جاتا ہے۔ اس مدت میں جب بھی کوئی دینی اور ملی تحریک اٹھائی گئی تو انہی مدارس سے اس کو تیار ذہن (prepared mind) اور معاون ملے۔ انہی مدارس نے ہر تحریک کے رہنماؤں کا استقبال کیا۔ انہی مدارس نے پورے ملک میں اس تحریک کے حق میں موافق فضا تیار کی۔ ملی تحریکوں کے رہنما جب ملک کا دورہ کرتے ہیں تو یہی مدارس ان کے لئے مقامی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے ہر جگہ، ان کے لئے قیام گاہ سے لے کر جلسہ گاہ تک ہر ضرورت کی فراہمی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اگر مدارس دینیہ کا یہ جال نہ ہوتا تو موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی کسی ملی تحریک کے لئے یہ ممکن نہ ہوتا کہ وہ اس پھیلاؤ اور وسعت کو حاصل کرے جو کہ عملاً اس نے حاصل کیا۔ کسی تحریک کی صحت کو جانچنے کا ایک معیار یہ ہے کہ جب وہ شروع ہو تو نہ صرف اپنا براہ راست نشانہ پورا کرے بلکہ اسی کے ساتھ وہ دوسرے بہت سے مثبت اور مفید نتائج پیدا کرنے کا سبب بن جائے۔ باغبان جب ایک درخت لگائے تو اس کا براہ راست نشانہ اس سے پھل لینا ہوتا ہے مگر جب درخت بڑھ کر تیار ہوتا ہے تو پھل کے علاوہ لوگوں کو اس سے دوسرے بہت سے فائدے بھی ملنے لگتے ہیں۔ مثلاً سایہ، ہریالی، لکڑی، پھول، وغیرہ۔ اسی طرح جب انسانی معاشرہ میں کوئی صالح تحریک چلائی جائے تو اس سے بہت سے ضمنی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ یہی معاملہ مدارس دینیہ کا ہے۔ یہ مدارس اصلًا علم دین کو فروغ دینے کے لئے قائم کئے گئے تھے مگر جب وہ قائم ہو گئے تو وہ بہت سے دوسرے فوائد کا ذریعہ بھی بن گئے۔ انہی میں سے ایک خاص فائدہ یہ تھا کہ سارے ملک میں پھیلے ہوئے یہ مدرسے ملی تحریکوں کے لئے انفراسٹرکچر کا کام دینے لگے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader