Urdu book · دین و شریعت

دین و شریعت

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

وقت تھا۔ جب آگ کے شعلے بلند ہوئے تو مدرسے والوں کو اس کی خبر ہو گئی، وہ کسی طلب کے بغیر دوڑ کر اس گاؤں میں پہنچے اور آگ بجھانے میں ہندوؤں کے ساتھ شریک ہوگئے ۔ اللہ کی مدد ہوئی اور فورا آگ بجھ گئی۔ اس طرح کے واقعات و تجربات کے بعد ہندو لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔ وہ مدرسہ کو اپنے حق میں ایک نعمت سمجھنے لگے۔ یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ یہ ہندو اپنے ذاتی نزاعات کو حل کرنے کے لئے مدرسہ والوں کے پاس آتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو مدرسہ والوں پر پورا بھروسہ ہے۔ اسی طرح ایک بار میں ایک اور مدرسہ میں گیا۔ وہاں مدرسہ سے ملا ہوا ایک باغ تھا۔ اس زمانہ میں باغ کو ایک ہندو ٹھیکہ دار نے لیا تھا۔ اس ہندو باغبان سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ جب میں یہاں آیا تو میں ڈرتا تھا کہ مدرسہ کے لڑکے ہمارے باغ کا نقصان کریں گے۔ مگر میرا یہ خیال غلط نکلا۔ مدرسہ والوں کا حال یہ ہے کہ پیڑ کا پھل توڑنا تو در کنار زمین پر گرے ہوئے پھل کو بھی وہ نہیں اٹھاتے۔ ملک بھر میں پھیلے ہوئے دینی مدارس اسی طرح اچھے شہری تیار کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ اس کی مثالیں ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ دینی مدارس کا امتیاز دینی مدارس کی اہم ترین امتیازی صفت یہ ہے کہ ان کی بنیاد علم حقیقی پر قائم ہے، یعنی دین اسلام پر جو کہ مذہب کا واحد محفوظ ایڈیشن ہے۔ یہ ایک بے حد اہم بات ہے کیوں کہ دوسرے جتنے بھی تعلیمی نظام ہیں، ان سب کی بنیاد علم ظنی پر قائم ہے نہ کہ علم حقیقی پر۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دینی مدارس میں جو لوگ تعلیم و تربیت حاصل کرتے ہیں وہ اس حیثیت میں ہوتے ہیں کہ وہ اپنے عقیدہ و عمل کو اعتماد کی بنیاد پر قائم کر سکیں، وہ اس یقین کے ساتھ جئیں کہ انہوں نے جو کچھ پایا ہے وہ عین سچائی ہے، اس میں جھوٹ کی کوئی آمیزش نہیں۔ اکثر دینی مدارس میں قرآن کو تقریباً مکمل طور پر بطور نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page