Urdu book · دین و شریعت

دینی مدارس کا امتیاز

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

علاوہ تمام مدارس میں قرآن کو سب سے زیادہ بلند مقام حاصل رہتا ہے۔ طلبہ اور اساتذہ دونوں روزانہ اس کی تلاوت کرتے ہیں۔ گفتگو اور تقریروں میں بار بار قرآنی آیتوں کے حوالے دئے جاتے ہیں۔ طلبہ نصاب سے باہر جو کتابیں اور جرائد پڑھتے ہیں ان میں عام طور پر بحث کا مرکزی نکتہ قرآن ہی ہوتا ہے۔ اس طرح عملی طور پر تمام طلبہ ہر روز براہ راست یا بالواسطہ انداز میں قرآن کا درس لیتے رہتے ہیں۔ یہی معاملہ حدیث کا ہے۔ وہ مدارس کے نصاب میں لازمی مضمون کی حیثیت سے شامل رہتی ہے۔ اکثر بڑے مدارس میں صحاح ستہ مکمل یا منتخب انداز میں پڑھائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مدرسہ کے ماحول میں طالب علم ہر روز حدیث کے حوالے یا اس کے تذکرے سنتا ہے۔ اس طرح عملی طور پر ہر طالب علم کو مدرسہ کی پوری زندگی میں مسلسل طور پر حدیث رسول کی فکری خوراک ملتی رہتی ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مدارس اپنے طلبہ کو ذہنی اور روحانی حیثیت سے ایک ایسی تربیت دیتے ہیں جو کسی اور نظام تعلیم میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔ دوسرے اداروں میں اگر تعلیم کی بنیاد انسانی علم پر ہے تو دینی اداروں میں تعلیم کی بنیاد خدائی علم پر۔ یہاں میں چند تقابلی مثالیں دوں گا جن سے اندازہ ہوگا کہ دینی مدرسہ اور غیر دینی مدرسہ میں کیا فرق ہے۔ وہ کون سے امتیازی اوصاف ہیں جو غیر دینی تعلیم گاہوں کے مقابلہ میں دینی تعلیم گاہوں کو حاصل ہیں۔ ۱۔ غیر دینی درس گاہیں خواہ وہ ملک کے اندر ہوں یا ملک کے باہر، سب کی سب عملاً ایک ہی مقصد کے تحت قائم ہیں، اور وہ یہ ہے کہ طالب علم کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ دنیا میں اچھا جاب حاصل کر سکے۔ ہر جگہ جاب رخی تعلیم (Job-oriented education) کا رواج ہے۔ گویا کہ یہ تعلیم گاہیں انسان کو حیوان کاسب (earning animal) بنانے کے کارخانے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page