دینی مدارس کا امتیاز
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
دینی مدارس کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ایک لفظ میں کہا جاسکتا ہے کہ دینی مدارس خدا رخلی تعلیم (God-oriented education) کے ادارے ہیں۔ وہ انسان کے اندر اعلیٰ مقصدیت کا شعور جگاتے ہیں۔ وہ انسان کو مادی سطح سے اٹھا کر روحانی یاربانی سطح پر جینا سکھاتے ہیں۔ ۲۔ غیر دینی مدارس عملی طور پر یہ سبق دیتے ہیں کہ دنیا کی مادی چیزوں کا حصول ہی ہماری زندگی کی آخری منزل ہے۔ جب کہ دینی مدارس ہر طالب علم کے اندر یہ ذہن بناتے ہیں کہ دنیا کی مادی چیزیں تمہاری ضرورت ہیں نہ کہ تمہارا مقصد۔ غیر دینی مدارس کا جو فلسفہ ہے اس میں انسان کے لئے آزادی کا پیغام تو موجود ہے مگر آزادی کی حدود (limitations) کا کوئی تعیین نہیں۔ اس کا ایک نتیجہ وہ ہے جو جدید ترقی یافتہ ملکوں میں بے قید جنسی تعلقات اور بے قید لذت پسندی کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ غیر دینی درسگاہوں میں اس بے قیدی پر روک لگانے کا کوئی قانون نظری طور پر موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ساجوں میں ظاہری ترقیوں کے باوجود حقیقی انسانیت کا ارتقاء ممکن نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس دینی درسگاہوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کی بنیاد خدائی شریعت کے اصول پر قائم ہے۔ چنانچہ دینی درسگاہوں کے فلسفۂ تعلیم میں انسان کے لئے جس طرح آزادی ایک معلوم اصول کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح یہاں یہ بھی پوری طرح معلوم ہے کہ آزادی کے حدود کیا ہیں۔ کب تک آزادی ایک رحمت ہے اور وہ کون سی حد ہے جس سے تجاوز کرنے کے بعد آزادی اس کے لئے بر عکس طور پر عذاب بن جائے گی۔ ۳۔ غیر دینی تعلیم گاہوں میں عام طور پر جو اصول پایا جاتا ہے وہ اضافیت (relativity) کا اصول ہے۔ یعنی اس دنیا میں ہمارا علم اور ہمارا ہر نظریہ اضافی حیثیت رکھتا ہے نہ کہ حقیقی۔ اس فلسفہ کا نتیجہ یہ ہے کہ جدید تعلیم گاہوں میں اخلاق بھی ایک اضافی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ یہاں ہر اصول صرف اضافی قدر رکھتا ہے۔ یہ نظریہ اپنی آخری حد پر پہنچ کر اس فلسفہ کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader