دینی مدارس کا امتیاز
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
کے باوجود کسی بھی درجہ میں وہ اس سے آگے نہ بڑھ سکا۔ چنانچہ نظریۂ ارتقاء کے محقق علماء خود یہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ نظریہ اب بھی صرف ایک کام چلاؤ نظریہ (workable theory) ہے نہ کہ کوئی ثابت شدہ علمی حقیقت۔ اس کے بر عکس دینی درس گاہ میں تربیت پائے ہوئے انسان کا ذہن اول دن سے بالکل صاف ہوتا ہے۔ قرآن کی بنیاد پر، وہ اول دن سے اس یقین کا حامل ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کا آغاز خدائی تخلیق کے ذریعہ ہوانہ کہ محض بے شعور مادی عوامل کے ارتقاء سے۔ اس طرح دینی درسگاہ کا ایک انسان حیاتیات کے معاملہ میں اس نقطۂ آغاز کو پہلے ہی دن پا لیتا ہے جس کو غیر دینی درس گاہ میں تربیت پائے ہوئے لوگ سو سال سے زیادہ مدت تک مہنگی قسم کی علمی سرگرمیوں کے باوجود پانے میں ناکام رہے۔ ۵- غیر دینی درس گاہ میں تعلیم پایا ہوا انسان جس فلسفۂ حیات کو لے کر وہاں سے نکلتا ہے اس کے عین فطری نتیجہ کے مطابق اس کا تصور حیات بالکل ادھورا ہوتا ہے۔ وہ آغاز حیات کو جانتا ہے مگر وہ انجام حیات کو نہیں جانتا۔ اس کو یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنی زندگی کی سرگرمیوں کو کہاں سے شروع کرے مگر اس کو یہ علم نہیں ہوتا کہ اس کی آخری منزل کیا ہے اور زندگی کے انجام کے اعتبار سے اس کو کس قسم کی تیاری کرنا چاہئے۔ وہ بظاہر اپنی زندگی کا آغاز اجالے میں کرتا ہے، صرف اس لئے کہ آخری عمر کو پہنچ کر اس کی زندگی نا معلوم اندھیروں میں بھٹک کر رہ جائے۔ دینی مدرسہ میں تعلیم و تربیت پائے ہوئے انسان کا معاملہ اس سے مکمل طور پر مختلف ہو تا ہے۔ یہاں کا تعلیم یافتہ انسان اپنے قرآنی پس منظر کی بنیاد پر پورے شعور کے ساتھ یہ جانتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی کا سفر کہاں سے شروع کرنا ہے اور اس کی آخری منزل کیا ہے۔ ایسا انسان اس واضح یقین پر کھڑا ہو تا ہے کہ موجودہ دنیا کی حیثیت راستہ کی ہے، اور اس کے بعد آنے والی آخرت کی دنیا کی حیثیت منزل کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader